fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

ہوم اسٹیجنگ کے بارے میں کچھ مفید معلومات

جب گھر فروخت کرنا ہو تو ہر فروخت کنندہ کی مکمل کوشش یہ ہوتی ہے کہ گھر بہتر سے بہتر قیمت میں بک سکے۔ اس مقصد کے لیے بہت سارے اقدامات کیے جاتے ہیں جن میں گھر کی تزئین و آرائش، رنگ و روغن، صفائی و ستھرائی اور تعمیر و زیبائش شامل ہیں۔ مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی بھی خریدار جب گھر دیکھنے آئے تو گھر پر پہلی نگاہ ہی اُس کی آخری نگاہ ہو۔ یعنی ایک بار دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جائے اور دیکھتے ہی دیکھتے بہتر قیمت کی ادائیگی پر راضی ہو۔

یہ تب ہی ہوگا جب گھر ایسی صورت اختیار کرے کہ وہ ہر لحاظ سے بہترین ہو اور دیکھنے والا اُسے دیکھتے ہی دیکھتے خود کو وہاں کا رہائشی تصّور کرنے کے خواب بُننے لگے۔ اسی بحث میں کہیں ہوم سٹیجنگ کا کانسیپٹ بھی آتا ہے۔

ہوم سٹیجنگ سے کیا مراد ہے؟

سٹیجنگ کے معنی کسی بھی چیز کو نمائش کے لیے پیش کرنے کے ہیں۔ کسی بھی چیز کو اسٹیج تب کیا جاتا ہے جب اُس کا دکھاوا مقصود ہو۔ یہاں دکھاوے کا مقصد ہر گز روایتی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے لوگ اس چیز کو دیکھ کر اُسے خرید سکیں۔

ہوم سٹیجنگ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گھر کو ایسے سجایا جائے، ایسے ڈیکوریٹ کیا جائے کہ اس کی سب سے محصور کن فیچرز کی سب سے بڑھ کر نمائش ہو اور یہ خریداروں کی وہاں رہنے کے تصّور میں مدد کر سکے۔ ہوم سٹیجنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر یہ دُرست طریقے سے کی جائے تو گھر ہاتھوں ہاتھ بک سکتا ہے۔

سارا گھر نہیں، چند اہم کمرے

ایک غیر مُلکی جریدے نیشنل ایسوسیشن آف ریلٹرز سٹیجنگ اسٹیٹ رپورٹ برائے سال 2017 کے مطابق 49 فیصد خریداروں کا یہ خیال ہے کہ ہوم سٹیجنگ دُرست طریقے سے ہونے کی وجہ سے وہ اپنا گھر خریدنے پر مجبور ہوئے۔ اسی طرح سے اس رپورٹ کا مزید مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہوم سٹیجنگ صحیح طریقے سے کی جانے کی وجہ سے گھر کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد سے 39 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔

یہ قدر کم ہوجاتی ہے اگر گھر بہت دیر سے مارکیٹ میں ہو کیونکہ مارکیٹ میں گھر جتنی دیر تک رہیگا، اُس کی قیمت کم ہوتی چلی جائے گی۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ گھر کی سٹیجنگ میں زیادہ رقم نہیں لگتی۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کو اگر اسمارٹ طریقے سے کیا جائے تو فائدہ بھی دیتا ہے اور طمانیت کا احساس بھی۔ آج کی تحریر ایسے چند اسمارٹ طریقوں کے بارے میں ہے جو آپ کے مکان کے فروخت کے عمل کو آسان بنانے میں معاونت کرے گا۔

وہ اہم کمرے کون سے ہیں؟

ہوم سٹیجنگ میں ہر کمرے کی یکساں اہمیت نہیں ہوتی۔ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ لیونگ روم، کِچن، باتھ روم، بیڈ روم اور گھر کا آوٹ ڈور سدھارنے اور سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ اس سے لوگ بہتر طریقے سے اپنی توجہ اور سرمایہ ایسی جگہوں پر لگا سکتے ہیں جہاں اس کی افادیت ممکن ہو اور دیکھی جا سکے۔

باقی کمروں یعنی بچوں کے رہنے کی جگہ، برآمدہ، اور گیسٹ بیڈ رومز پر اتنی توجہ نہ دیں۔ یہ ضروری نہیں کہ توجہ نہ دینے کا یہ مطلب ہے کہ آپ بلکل اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیں بلکہ ان پر باقیوں کی نسبت کم وقت اور سرمایہ لگائیں۔

کمروں کو ڈی پرسنلائز کریں

اسی طرح کمروں کو ڈی پرسنلائز کریں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو کہ بیشتر لوگ نہیں کرتے اور یہیں پر وہ غلطی کرتے ہیں۔ ڈی پرسنلائز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ گھر کو ایسی ترتیب دیں کہ جس کے بعد وہاں آنے والے لوگوں کو اپنے آپ کو وہاں پر تصور کرنے میں آسانی ہو۔

اگر دیواروں پر آپ کی تصاویر آویزاں ہوں اور بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر آپ کی نشانیاں پڑی ہوں تو ایسا ہی ہوگا کہ کوئی اور جب اُس کمرے میں داخل ہوگا تو اسے وہ کمرہ اپنا اپنا نہیں لگے گا بلکہ وہ اسے آپ کا کمرہ سمجھے گا۔ ہوں آپ جتنی بھی کوشش کرلیں وہ گھر اُسے آپ کا گھر لگے گا اور وہ کنیکٹ نہیں کر پائے گا۔ بطور ایک مالک مکان آپ کو یہ اپنی ناکامی محسوس ہوگی۔ لہٰذا وہ تمام اشیاء جو کہ آپ کی اپنی ہے اُسے نکال باہر کیجئے تاکہ گاہک اُس کمرے سے اپنا ذہنی تعلق بنا سکے۔

صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں

اسی طرح سے گھر کی صفائی ستھرائی یقینی بنائیں۔ کوئی بھی گھر جس میں گندگی اور غیر ضروری اشیاء ہو وہ اپیل نہیں رکھے گا۔ جب یہ اپیل نہیں ہوگی تو گھر بکے گا نہیں اور جب بکے گا نہیں تو آپ خود کو ہوم سٹیجنگ کے معاملے میں ناکام پائیں گے۔

اس کے لیے ڈی کلٹرنگ ایک ضروری عمل ہے جس کے بارے میں اگلے پیراگراف میں بتایا گیا ہے۔ گھر کی مکمل صفائی اور صفائی کے بعد تزئین و آرائش پر توجہ دیجئے تاکہ آپ کے لیے معاملات آسان ہوسکیں۔

ڈی کلٹرنگ کیجئے

اندرونی ڈیزائن پر ایک عالمی جریدے کے مطابق ایک ہی بار ساری اشیاء باہر نکال دیں اور پھر ایک ایک کر کے واپس لائیں۔ یہ ایک آزمودہ فارمولا ہے جس سے لوگ کافی حد تک ایسی اشیاء باہر نکال پاتے ہیں جن کی گھر میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور وہ بس ویسے ہی کمرے میں جگہ پکڑے رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔

اسی طرح جب آپ ایک ایک کر کے اشیاء کمرے میں واپس لائیں تو خود سے اُس اشیاء کے مطابق یہ سوال کریں کہ یہ آئوٹ آف فیشن تو نہیں ہے اور اگر لگے تو اسے انتہائی خوبصورت ڈبے میں بند کردیں۔ آج کل آن لائن اسٹورز پر ایسے کافی خوبصورت کنٹینر دستیاب ہیں جن کے اندر آپ فالتو سامان رکھ سکتے ہیں اور اُن کنٹینرز کو ہی بطور ڈیکوریشن بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ضروری نہیں کہ ہر افقی سطح پر آپ کوئی نہ کوئی چیز رکھیں۔

گھر کی رپیئر

اسی طرح سے کوئی بھی ایسی چیز جو کہ خراب حالت میں ہو اُسے دُرست کرلیجئے۔ یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ جب کوئی کمرے کو چیک کرنے کے لیے وہاں داخل ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے وہاں کے پنکھے اور لائٹس آن کرتا ہے اور معتدد اشیاء چیک کرتا ہے کہ آیا وہ دُرست حالت میں ہے کہ نہیں۔ اگر ایسے میں کوئی بھی ایسی اپلائنس ہو جو دُرست نہ ہو تو اس کا تاثر انتہائی غلط جاتا ہے۔

جب تاثر غلط جائے تو آپ کی اُس گھر کو مارکیٹ کرنے کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ ایسے میں آپ خود کو کوسیں ہے لہٰذا بعد میں شرمندگی اُٹھانے سے اچھا ہے کہ آپ پہلے ہی گھر کی حالت دُرست کرلیں اور تمام تر اشیاء کی رپیرنگ کرلیں۔ رنگ و روغن انتہائی انہماک سے کروائیں اور دیکھیں کہ کوئی میز، کرسی، فرنیچر ایسا تو نہیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.