fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

گھر کے اطراف میں درختوں کا بہتر استعمال، مگر کیسے؟

مکان کی ویلیو میں لوکیشن کا کردار انتہائی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ آس پاس کی سہولیات اور ارد گرد کے مناظر اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کہیں بھی پراپرٹی کی خرید و فروخت کا عمل دیکھنے میں آئے، آپ دیکھیں گے کہ خریدار اور فروخت کنندہ کے مابین بیشتر گفتگو اُس پراپرٹی کی لوکیشن کو لے کر ہورہی ہوگی۔ ریئل اسٹیٹ میں یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ پراپرٹی کی ویلیو میں تین چیزوں کا کلیدی عمل ہوتا ہے، لوکیشن لوکیشن اور لوکیشن۔ ابتدائی سطور میں بات مکان کے آس پاس کے منظر کی ہوئی۔

سہولیات تو چلیں ایک مین میڈ سلسلہ ہے لیکن ارد گرد کے مناظر میں انسان کافی حد تک قدرتی حسن و جمال کے مرہونِ منت نظر آتا ہے۔ مکان کے گرد درختوں کے بسیرے ہوں، بہت سا گرین کوور یعنی سبزہ زار ہو، تو وہاں کے مکینوں کا لیونگ ایکسپیرینس یعنی رہائشی تجربہ بہت اچھا ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں مگر فی الحال زیادہ لوگ ایسے نہیں جن کا ذہن مکان کے گرد لینڈ اسکیپنگ کی طرف مائل ہو۔ یوں عموماً مکانات کے عقب میں دلان اور وسیع میدان واقع ہوتے ہیں مگر لوگوں کا ذہن اُس کے پوٹینشل سے مستفید ہونے کا خیال ذرا کم ہی آتا ہے۔

آج کل چونکہ حکومتِ وقت کا خیال ذرا شجر کاری پر زیادہ ہے اور اس ضمن میں ٹری پلانٹیشن کو میڈیا کوریج بھی دی جارہی ہے لہٰذا عوام الناس میں نچلی سطح تک یہ بات پھیلتی جارہی ہے کہ شجر کاری ایک سنجیدہ عمل کے اور درختوں کی کٹائی کی ہر ممکن حد تک حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے۔ اب لوگ درختوں کو اپنے فوائد کیلئے استعمال کرنے پر بھی غور کررہے ہیں اور اس ضمن میں مختلف آئیڈیاز جنم لے رہے ہیں۔ درختوں سے ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات کا تدارک ہو یا انسانی صحت پر اس کے مثبت اثرات، لوگوں میں اب ہر حوالے سے آگاہی پھیلتی جارہی ہے۔ آج کی تحریر مگر اس حوالے سے ہے کہ اپنے مکان کے گرد درختوں کو کس طرح سے اپنے فائدے کیلئے استعمال کیا جائے اور ایک مکان کے ارد گرد سبز احاطے کی اُس مکان کی مجموعی مالیاتی ویلیو اور وہاں کے مکینوں کی زندگیوں پر کیسا اثر ہوتا ہے۔

سورج سے خارج ہونے والی تیز الٹرا وائلٹ شعائیں آپ کی گاڑی کا رنگ پھیکا کر سکتی ہیں۔ اس ضمن میں عقلمندی کا مظاہرہ ایسے کیا جاسکتا ہے کہ آپ اپنی گاڑی کو چھاؤں میں کھڑا کریں تاکہ گاڑی کے رنگ پر اثر بھی نہ ہو اور آپ کی آمد تک گاڑی کا درجہ حرارت بھی نارمل رہے۔ ایسے میں گھروں کے آس پاس موجود گھنے درختوں کو گاڑی کی پارکنگ کیلئے شیڈ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ سورج کی روشنی میں ڈائریکٹ گاڑی کھڑی کرنا عموماً حادثات کی وجہ بنتا ہے۔ وہ ایسے کہ جب لوگ گاڑی میں بیٹھیں اور وہ گاڑی تپ رہی ہو، تو عموماً اُن کا ہاتھ ایک انتہائی گرم اسٹیرنگ ویل پر صحیح گرفت حاصل نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے گاڑی کے قابو سے نکل جانے کا خدشہ ہوتا ہے، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ درجہ حرارت ماڈریٹ ہونے تک لوگ خاصی عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے بھی ٹریفک حادثات جنم لیتے ہیں۔

بہت سے لوگ تو گھروں کے گرد درختوں کو اپنے مکان کی پرائیویسی بہتر بنانے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مکان کے گرد اگر بہت سارے درخت ہوں تو مکان ایکسکلویو نظر آتا ہے۔ اس ضمن میں پڑوسیوں کی آپ کی نجی زندگی میں حد درجہ دلچسپی، آس پاس کے لوگوں کا گزرتے گزرتے مکان کے اندر جھانکنا اور مکینوں کی روز مرہ کی روٹین کا حساب کتاب لگاتے اِدھر اُدھر کے لوگوں سے خود کو کافی حد تک بچایا جاسکتا ہے۔ آج کل کا دور وسائل کے لہاظ سے عجب نفسا نفسی لیے ہوئے ہے۔ ہر شخص کی نظر گویا دوسرے پر ہے اور اس ضمن میں ہر شخص اپنے آپ سے زیادہ دوسروں کی زندگیوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ایسے میں پرائیویسی ایک الگ طرح کی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور انسان سے جس حد تک ہوسکے، دیگر اور غیر متعلقہ افراد سے اپنے معاملات پوشیدہ رکھنے چاہئیں۔

گھر میں اگر ضرورت سے زیادہ سورج کی روشنی کی آمد ہو تو اِن ڈور ٹمپریچر ہمیشہ زیادہ رہتا ہے۔ اگر مکان کا رخ چڑھتے سورج کی جانب ہو تو عموماً آپ کے وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشننگ سسٹمز بھی اپنے کمالات دکھانے سے عاجز آجاتے ہیں۔ ایسے میں مہنگے اور مصنوعی حل تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے مکان کے گرد شجرکاری مہم پر زور دیں۔ یہ قدرتی طور پر آپ کے مکان کے درجہ حرارت کو ماڈریٹ رکھیں گے، آپ کو چھاؤں فراہم کریں گے اور ایئر کنڈیشننگ کی مد میں خرچ کیے جانے والی رقم بھی کم ہوگی۔ گھر کے اطراف میں موجود درختوں سے انسان اپنی صحت کا بھی فائدہ کرسکتا ہے۔ صبح سویرے اُٹھ کر چہل قدمی کرنا ہو یا درختوں کے پیچ چلنے والی تازہ ہوا سے اپنے لنگز کی تھراپی کرنا ہو، سبز نظاروں سے اپنے اعصاب پر طاری تھکن میں کمی لانی ہو یا درختوں سے ہی مختلف بیماریوں کیلئے انواع و اقسام کی دوائیوں کا حصول کرنا ہو، گرین کوور ہر حال میں انسان کے فائدے کا سامان لیے ہوئے ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.