fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

گھروں میں تازہ سبزیوں اور پھلوں کی کاشتکاری کا بڑھتا رحجان

گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت کا مشغلہ نہ صرف انسانی صحت کیلئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ انسان کے جسم اور دماغ  کو توانا  رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ گھر کے باغیچے میں کاشت کی گئی سبزیاں سپرے، کیمیکل اور دیگر غلاظتوں سے پاک ہوتی ہیں ۔

دنیا بھر میں آج کل بازاری سبزیوں کی خرید سے بچنے اور اپنی صحت کو بہترین حالت میں رکھنے کیلئے کچن گارڈننگ جدید بنیادوں پر استوار رہائشی علاقوں میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ گھر میں سبزیاں اگانے سے مہنگائی سے پریشان اور کم آمدنی والے افراد کو نہ صرف بہتر اور تازہ سبزیاں میسر آ سکتی ہیں بلکہ گھر کا بجٹ بنانے میں دسشواری سے بھی چھٹکارا حاصل ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں سالانہ فی کس سبزیوں کا استعمال صرف 90 کلو گرام ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہر شخص سالانہ اوسطاً 165  کلوگرام سبزیاں استعمال کرتا ہے۔ طبی نقطہ نظر سے ہر شخص کیلئے سال میں کم از کم 110 سے 117 کلوگرام سبزیوں کا استعمال ضروری ہے۔  چین میں تقریباً  ہر شخص سال میں 311 سے 315 کلو گرام سبزیاں استعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے چین میں شرح امراض نہ ہونے کے برابرہیں۔

گھروں میں کاشت کی جانے والی تازہ سبزیوں اور پھلوں کی افادیت

باغبانی ایک انتہائی مفید تفریح ہے جس سے نہ صرف آپ خود بلکہ آپ کی فیملی اور دوست احباب بھی مستفید ہوتے ہیں کوئی بھی پھل یا سبزی جو میلوں دور مسافت طے کر کے پودوں سے ٹوٹنے سے تین چار دن بعد آپ کے کچن تک پہنچتی ہے وہ گھر میں اگائی جانے والی پھل یا سبزی کا ذائقے میں مقابلہ نہیں کر سکتی گھر کی تازہ سبزیوں کا ذائقہ اور خوشبو اتنی اچھی ہوتی ہے کہ آپ بازاری سبزیاں کھا ہی نہیں سکیں گے.

آپ اپنی مرضی کی وہ تمام سبزیاں اگا سکتے ہیں جو بازار میں تازہ حالت میں دستیاب نہیں ہوتیں اگر پھل کی بات کی جائے تو پھل کو درختوں سے کچا توڑ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں مصالحہ لگایا جاتا ہے اور راستے میں مضر صحت حالات سے گزر کر مکمل پک جاتے ان پر کاربائیڈ لگایا جاتاہے اس کیمیکل لگے پھل کو اگر پانی میں ڈالا جائے تو پانی سے تیزاب کی طرح کے بلبلے نکلنے لگتے ہیں اگر یہی پھل آپ اپنے باغیچے سے لگے توڑیں گے تو اس کو آپ مکمل پکا ہوا اتاریں گے اور یہ بےحد لذیذ ہونے کے ساتھ غذائیت سے بھی بھرپور ہو گا۔

اسی طرح سبزیاں جب توڑ کر منڈی تک اور پھر ہم تک پہنچتی ہیں تو تین چار دن پرانی ہو چکی ہوتی ہیں چناچہ اپنا ذائقہ اور افادیت کھو دیتی ہیں۔ یہی سبزیاں اگر ہم اپنے گھر میں اگانا شروع کریں تو ہم سبزیوں کی مکمل غذائیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔

ان سب مسائل اور نقصانات سے بچنے کے علاوہ پیسہ اور صحت کو بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ گھر میں سبزیاں اگائیں کیونکہ گھریلو باغبانی ہی آج کے دور کی اولین ضرورت ہے اور صحت مند زندگی کا تقاضا بھی۔ ماہرین کے مطابق بیماریوں کی شرح میں روز بروز اضافے کی سب سے بڑی وجہ سبزیوں کا کم استعمال یا ایسی سبزیوں کا استعمال ہے جو گندے پانی اور زہریلی ادویات کے ذریعے اُگائی جاتی ہیں

گھر کے باغیچہ میں بآسانی اگائی جانے والی سبزیاں

کچن گارڈن میں ٹماٹر، مرچ، کھیرا، بینگن، مولی، مونگرے، بھنڈی، کریلہ، توری، پیاز، پالک، دھنیا، لہسن اور پودینہ کےعلاوہ بھی دیگر بہت سی سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔

آج کل بازار میں ایسے بیج بھی دستیاب ہیں جو جلد اور زیادہ پھل دیتے ہیں اور بیماریوں سے بھی کم متاثر ہوتے ہیں۔ بیج کے علاوہ نرسریوں سے بھی ان کی پنیری لی جا سکتی ہے جو جلد پھل دیتی ہیں۔ پالک، دھنیا، میتھی، گوبھی، ٹماٹر، ساگ، گاجر، شلجم اور مولی جیسی سبزیاں 3 سے 5 مرلہ پلاٹ میں آسانی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ گھریلو پیمانے پر ضروری نہیں کہ بہت زیادہ جگہ دستیاب ہو یہ کام گملوں، پلاسٹک کے ڈبوں، کھلے ڈبوں، پلاسٹک یا لکڑی کی ٹرے میں بھی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ موسم گرما میں ٹینڈے، کریلے، بھنڈی، توری، کدو اور پودینہ جبکہ موسم سرما میں گاجر، مولی، شلجم، گوبھی، لہسن اور پیاز گھر میں با آسانی کاشت کیے جا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اپنی مرضی کی سبزیاں بروکلی، آئس برگ اور مشروم بھی گھر کے باغیچے میں کاشت کی جا سکتی ہیں جو بازار سے تازہ حالت میں دستیاب نہیں ہوتیں اگر آپ کسی فلیٹ میں رہتے ہیں تو بھی یہ کام باآسانی کر سکتے ہیں اس کے لئے آپ اپنے گھر کی کھڑکیوں اور بالکونی کو استعمال کر کے ورٹیکل گارڈن سے گھر کی سبزیوں کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔

استعمال شدہ اشیاء کو کچن کارڈننگ میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

کچن گارڈننگ کے لئے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں اس کے لئے آپ پرانے برتن، بالٹی، ٹوٹا مٹکا، ٹائر ٹیوب کے ٹکڑے یا کوئی ایسا برتن جس میں تھوڑی سی مٹی اور پانی جمع کیا جا سکے یہاں تک کہ لکڑی سے بنے پھلوں کے کارٹن یا کوکنگ آئل کے کین دولیٹر یا اس سے بڑی کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلیں باغبانی کے لئے بہت افادیت رکھتی ہیں ان کے علاوہ گھر یا فلیٹ کے فرش کو بھی اس کام کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

اس کے لئے فرش پر موٹے پولی تھین کی دوہری تہہ لگا لینی چاہیئے تاکہ سیپیج سے فرش خراب نہ ہو سکے ان کے لیے اگر نہری پانی دستیاب نہ ہو تو پینے کا گھریلو پانی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت سے ہم خود کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے گھریلو اخراجات میں بھی کمی لا سکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ

Sorry, the comment form is closed at this time.