fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

گوادر کی ریئل اسٹیٹ میں پراپرٹی کی قیمتوں میں 4 گنا اضافہ

گوادر کی ریئل اسٹیٹ میں دبئی، خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ اڑھائی سے تین سال کے عرصے میں پراپرٹی کی قیمتوں میں 4 گنا اضافہ ہوچکا ہے.

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا معاہدہ طے ہونے اور گوادر میں اکنامک زون کی تعمیر کے لیے گوادر کی وسیع اراضی مختص کیے جانے کے بعد سے گوادر کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، گجرات، گوجرانوالہ، ملتان، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں سے سرمایہ کار گوادر کی رہائشی، کمرشل اور صنعتی اراضی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جلعسازی اور قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کی بنا پر گوادر کی 103میں سے 99 اسکیمیں  عارضی طور پر معطل کردی اور اس وقت صرف چار اسکیموں میں سرمایہ کاری کی اجازت ہے  تاہم دیگر اسکیموں کو ضروری دستاویزات کی فراہمی اور قواعد و ضوابط پورے کرنے پر دوبارہ سے کاروبری سرگرمیوں کی اجازت دے دی جائے گی۔

گوادر میں چینی سرمایہ کاری اور معاونت سے 11 نئے منصوبے زیر تعمیر

گوادر کے بڑے پروجیکٹس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کا تناسب 25 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ گوادر میں چینی سرمایہ کاری اور معاونت سے 11 بڑے منصوبے زیر تعمیر ہیں جن میں گوادر فری اکنامک زون، گوادر ایکسپورٹ پراسیسنگ زون ، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعمیر، بندرگاہ سے متعلق انفرااسٹرکچر کی تعمیر، گوادر کو ملک کے دیگر شہروں سے ملانے کے لیے سڑکوں اور راستوں کی تعمیر، گوادر کو پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبے، اسپتالوں، تکنیکی تربیت کی فراہمی کے مراکز کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔

آئل انڈسٹری کے لیے مختص کردہ وسیع رقبے پر آئل ریفائنریز پٹرولیم پلانٹس اور دیگر بڑے منصوبوں کی تعمیر بھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ چینی کمپنیوں کے علاوہ پاکستان کے بڑے سرمایہ کار اور کاروباری گروپ بھی گوادر میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

گوادر میں پانچ نئے فائیو اسٹار ہوٹلز کی تعمیر کے لیے اجازت نامے جاری ہوچکے ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ کے ساتھ 2200 ایکڑ رقبے پر تعمیر ہونے والا فری اکنامک زون منصوبہ نہ صرف گوادر بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

گوادر کے منصوبوں کے ذریعے ملک کے 20 لاکھ نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوگا۔ گوادر میں سیکیورٹی کے لیے 20ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں جس کی وجہ سے گوادر میں جاری ترقیاتی کام بلاخوف خطر جاری ہیں اور سرمایہ کاروں کی آمدورفت میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے۔

گوادر میں سرمایہ کاری کے مواقع

گوادر کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں حالیہ تیزی 2013سے شروع ہوئی اور تاحال پراپرٹی کی قیمتوں میں چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ گوادر میں ریئل اسٹیٹ کے علاوہ بھی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جن میں ہوٹل، ریسٹورانٹس، شاپنگ سینٹرز، بازار، ضروریات زندگی کا سامان مہیا کرنے کی دکانیں، ٹرانسپورت، گاڑیوں کی مرمت، ٹلیکٹرانکس مصنوعات، کمپیوٹرز اور موبائل سمیت دیگر کاروبار شامل ہیں ۔ آنے والے وقت میں گوادر میں سیاحت کی صنعت بھی بہت ترقی کرے گی۔

گوادر کو اگر مستقبل قریب میں پاکستانی معیشت کا بازو کہا جائے تو یہ بیجا نہ ہوگا اور بیشک یہ مادر وطن کے چہرے کا وہ جھومر ہے کہ جس کی چمک دمک بے مثآل ہے اور جس کا ذکر اب ہر پاکستانی کے لبوں پہ ہے کیونکہ یہاں پہ ملک کی دوسری سب سے بڑی قدرتی بندرگاہ موجود ہے اور جس کا اہم محل وقوع اسے عالمی سطح کی تؤجہ کا مرکز بنانے کا باعث ہے۔  کیونکہ یہ مشہور و معروف اور حساس ترین سمندی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے نزدیک ہی واقع ہے کہ جہاں سے عرب ممالک کے تیل کی بیشتر برامدات دوسرے ممالک کو جاتی ہیں  لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گوادر کی بندرگاہ جنوبی ایشیاء میں ایسی جگہ پہ ہے کہ جہاں سے اس کا مشرقی بعید سے فاصلہ سمندی راستے سے بہت کم ہوجاتا ہے نیز یہاں سے مشرق وسطیٰ اور سینٹرل ایشیاء کے ممالک کے زمینی رستے بھی دوسرے راستوں‌ کی نسبت کم طویل ہیں-

گوادر کی اور اہم بات جو کہ اہم ترین ہے وہ یہ ہے کہ اسکا پورٹ سی پیک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور چونکہ سی پیک کو پاکستانی معیشت کے لئے ‘گیم چینجر’ کہا جاتا ہے اس  لئے یہ پورٹ اور سارا گوادر پاکستانی معیشت کے لئے نئے سنہرے امکانات سے لبریز ہے۔

گوادر میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا پہلا مرحلہ 2025 میں مکمل ہونے کا امکان

گوادر کی تعمیر و ترقی ایک بہت بڑے میگا ڈیولپمینٹ پلان کے تحت کی جارہی ہے جو تین مراحل پہ مشتمل ہے اور آخری و تیسرا حصہ 2050 میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا جبکہ پہلا مرحلہ 2025 میں مکمل ہوگا اس کے ڈیولپمیٹ پلان کے مطابق شہر کوکئی مخصوص علاقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پلان میں شہر کے ایک حصے کو کمرشل قرار دیا گیا ہے۔ وہاں پر 135 اسکوائر فٹ بلند کمرشیل بلڈنگ بنانے کی اجازت ہے ۔ یعنی یہ سمجھ لیجیئے کہ شاپنگ مال ، بزنس آفسیزاورپوری پوری ہول سیل مارکیٹیں یہاں پہ ہوگی ۔

ریزیڈنشل کی بات کی جائے تو وہ کمرشل سے ذرا ہٹ کے ہے جہاں انہوں نے ایک مخصوص جگہ مہیا کی ہوئی ہے۔ گوادر میں بننے والا ائرپورٹ ساڑھے چار ہزار ایکڑ کے بیحد وسیع رقبے پہ بن رہا ہے جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مستقبل کے گوادر میں کس قدر بڑے پیمانے پہ امپورٹ اور ایکسپورٹ کی سرگرمیاں ہوں گی اور ان دونوں کاموں کے لئے سامان رکھنے کی گنجائش یعنی ویئرھاؤسنگ کی وسیع تر سہولتوں کی فراہمی کس قدر ضروری بلکہ لازمی ہے ۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.