fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

کنسٹرکشن پیکج میں ایک سال کی توسیع، اُمیدیں اور امکانات

پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر جس تیزی سے زیرِ کاشت رقبہ آبادی کے بڑھنے کی نظر ہورہا ہے اُس سے ہمارا ملک خدشات اور امکانات کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ خدشات اس ضمن میں کہ مُلک کی زرعی پیداوار کم ہورہی ہے مگر امکانات یہ ہیں کہ اس سے مُلک کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور تعمیراتی صنعت کو ایک نیا ایندھن فراہم ہورہا ہے۔

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کثیر منزلہ عمارات کے حامل شہری احاطوں کا ویژن رکھتے ہیں۔ یہ بغیر کسی شک شبے کے آج کے دور کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ دور، قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک، یعنی 73 برس کے اس عرصے میں تعمیراتی شعبے کا ایک غیر معمولی دور ہے۔

 

کنسٹرکشن پیکج کا پس منظر

وزیرِ اعظم نے گزشتہ سال 3 اپریل کو تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دیا۔ ساتھ ہی معتدد مراعات کا اعلان بھی کیا کہ جن سے کووڈ سے متاثرہ یہ صنعت فعال اور بحال ہوسکے۔

 

 

اس اعلان کو تعمیراتی شعبے سے جُڑے افراد نے نہ صرف ویلکم کیا بلکہ یہ بھی بیانیہ ترتیب دیا کہ اس کے فوائد لاکھوں افراد تک پہنچیں گے کیونکہ یہ کثیر الجہتی مقاصد کا حامل منصوبہ ہے۔

 

کنسٹرکشن پیکج کے چیدہ چیدہ نکات

سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن کا نہ پوچھے جانا، فکس ٹیکس کا مقرر کیے جانے اسٹیل اور سیمنٹ کے علاوہ تمام شعبوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کا خاتما، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ لگانے والوں کو 90 فیصد تک ٹیکس چھوٹ، گھروں کے فروخت کنندگان سے کیپیٹل گین ٹیکس کا نہ لیے جانا مراعات میں شامل تھا۔

 

 

یہ تمام مراعات گزشتہ سال کے آخری دن ختم ہورہی تھیں جب وزیرِ اعظم کی طرف سے تعمیراتی شعبے کے بھرپور اسرار پر ان میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی۔

 

اور اب ایک سال کی توسیع

جمعرات کے روز وزیرِ اعظم عمران خان نے یہ اعلان کیا کہ فکس ٹیکس رجیم میں ایک سال کی توسیع کی جائے گی۔

 

 

منصوبوں کے اختتام کی مدت 30 ستمبر 2023 تک کردی گئی اور ذرائع آمدن کی پوچھ سے چھوٹ رواں سال 30 جون تک موخر کردی گئی۔ اگلے پانچ سال بھی پانچ اور دس مرلہ کے مکانات پر پانچ اور سات فیصد سے زائد کا سود وصول نہیں کیا جائیگا۔

 

امکانات اور فوائد

اب تک کے فوائد کی اگر بات کرلی جائے تو ایف بی آر کے پورٹل پر 186 ارب کے پراجیکٹ رجسٹر ہوچکے ہیں اور 136 ابھی منظوری کے عمل میں ہیں۔

 

 

صرف پنجاب کی اگر بات کرلی جائے تو 163 ارب کے تعمیراتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ پنجاب میں اڑھائی لاکھ لوگوں کے روزگار کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے اور 1500 ارب سے زائد کی اقتصادی سرگرمیاں ہونے کی اُمید کی جا رہی ہے۔

ان اقدامات کی ضرورت اور افادیت سے انکار نہیں۔ اس سکیم سے اسٹیٹ ڈویلپرز، تعمیراتی کمپنیوں، بجری، ریت، آئرن، سریا، ٹائلز، لکڑی، خشت، سیمنٹ، اسٹیل، بجلی، مستری، مزدور، بڑھئی، پلمبر، انجینئر اور ہنرمندوں تک پہنچیں گے۔

 

بڑے شہری احاطوں کے ماسٹر پلان

ساتھ ہی وزیرِ اعظم کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ سی ڈی اے اور آر ڈی اے کی آٹو میشن پر کام جاری ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ماسٹر پلان بھی دوبارہ سے بنائے جا رہے ہیں تاکہ عصرِ حاضر کی ضرورتوں کو تمام شہر اپنے دامن میں سمونے کے اہل ہوں۔

 

 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شہر پھیلاؤ کا شکار ہیں اور اس بے ہنگم پھیلاؤ کے سامنے بند باندھنا یعنی شہر کو وسائل کے فقدان سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ماسٹر پلان کا بہتر انتظام کیا جائے۔

 

حرفِ آخر

گزشتہ آٹھ ماہ سے اس صنعت میں جو مثبت آثار نظر آ رہے ہیں اُن کی روشنی میں یہ اعلانات یقیناً ایک بہتر فضاء پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

 

 

ایمنسٹی اسکیم سے انویسٹمنٹ کی نئی راہیں ہموار ہوں گی اور عمارتی سامان کی مانگ میں اضافے سے صنعت و تجارت میں تیزی آئے گی۔

 

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.