fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کی کمی، وجوہات کیا؟

آبادی کے لحاظ سے ہمارا مُلک دنیا میں پانچویں نمبر پر آتا ہے۔ اس حقیقت کے اپنے فوائد اور اپنے نقصانات ہیں۔

گو کہ آج کی تحریر بڑھتی ہوئی آبادی کے فوائد و نقصانات کے بارے میں نہیں ہے مگر آج کے موضوع کا تعلق آبادی سے ضرور ہے۔ پاکستان کے دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہونے کے فوائد کی اگر بات کرلی جائے تو ہمارے ملک کو عالمی طور پر ایک معاشی مرکز اور ویلتھ سرکولیشن مارکیٹ کے طور پر دیکھا جارہا ہے. یہاں دنیا کی مختلف کمپنیز اور برانڈز کی توجہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی آبادی جس کا 62 فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اُس کو کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جاسکے۔

اگر نقصانات کی بات کرلی جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایک جگہ جہاں آبادی زیادہ ہوگی، وہاں وسائل پر اتنا ہی زور ہوگا، جب وسائل پر زور غالب آئیگا تو صرف زر والا ہی وسائل پر غالب ہوگا اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والا بیشتر وسائل سے استفادہ نہیں کرسکے گا۔ یوں وسائل کا معیار گرے گا، وہ معاشرے میں نچلی سطح تک سرائیت نہیں کر پائیں گے، ہر کسی کو ایک طرح سے دستیاب نہیں ہو پائیں گے اور لوگوں کا معیارِ زندگی گرتا چلا جائیگا۔

ایک نقصان تو یہ بھی ہے کہ جب آبادی ایک مخصوص حد سے بڑھ جائے تو وہاں کے لوگ شہری مراکز میں بہت سے ایسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں جو آبادی اگر کنٹرول میں ہو تو نہیں کرنے پڑتے۔ جب آبادی زیادہ ہو تو حکومتیں اپنا انتظامی کنٹرول اُس طرح سے نہیں نبھا پاتیں، متعدد ایسی تحقیقات سامنے آئیں جہاں جرائم کی شرح اور آبادی کے بڑھنے کا آپسی میل ثابت ہوا، شہری مراکز میں سہولیات کا فقدان ہوتا ہے، لوگ ہسپتال، صاف پانی، تازہ آب و ہوا، انفراسٹرکچر، ریزیڈینشل اور کمرشل احاطوں کی تقسیم سے خود کو دور پاتے ہیں اور معاملات کافی حد تک مشکل ہوجاتے ہیں۔

کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کا فقدان

کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کے فقدان کی وجہ کیا ہے، کسی بھی علاقے میں ہاؤسنگ یونٹس کا بحران کیسے سر اٹھاتا ہے اور اس سے کس طرح سے بچا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں ہاؤسنگ کی فی کس ڈیمانڈ انتہائی زیادہ ہے۔ شاید ہی دنیا میں کوئی ملک ایسا ہو جہاں ہاؤسنگ کی خصوصاً کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کی اتنی ضرورت ہو کہ جتنی پاکستان میں ہے۔

پاکستان میں ہاؤسنگ کی بڑھتی ڈیمانڈ

پاکستان کو سال 2030 تک تقریباً 2 کروڑ ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت ہے۔ یعنی اگر ہم سالانہ 10 لاکھ مکانات کا قیام کرنا شروع کریں تو 2040 تک محض 80 فیصد تک کی ہاؤسنگ ڈیمانڈ پوری کر سکیں گے۔ حکومتی و نجی شراکت داری سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے اس پوٹینشل کا احساس اور ادراک ہی اس سیکٹر سے مُلکی معاشی تصویر کی تبدیلی کی نوید ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر ہم اگلی دو دہائیوں میں تقریباً 2 کروڑ ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کرلیں تو مُلک کی معاشی ویلیو میں 2 ٹریلین ڈالر کا اضافہ اور 1.5 کروڑ نوکریاں حقیقت بن سکتی ہیں۔

معاشی صورتحال

پاکستان کی معاشی صورتحال ایک ایسی سڑک کی مانند ہے جو جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں، اس سڑک کو مگر زیرِ تعمیر بھی کہا جاسکتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے ہوں یا ہمارا اندرونی سیاسی و سلامتی کا معاملہ، ہمارا ایکسچینج ریٹ ہمیشہ کسی آندھی کی زد میں ٹمٹماتے چراغ کا منظر دکھاتا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے درآمدات مہنگی ہوجاتی ہیں، یوں کاسٹ آف لیونگ بڑھ جاتی ہے اور معاشی نمو کا سفر آہستگی سے طے ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کا، جہاں اندرونی انڈسٹریز اور پروڈکشن مارکیٹس کی کیپیسٹی بلڈنگ نہیں کی گئی، زیادہ تر گزارا عالمی منڈیوں سے کی گئی درآمدات پر ہوتا ہے۔ ایسے میں بڑھتے ڈالر سے تعمیرات کیلئے درکار سامان کا مہنگا ہونا اور بدلے میں تعمیر کا سفر رُک جانا کسی اچھنبے کی بات نہیں۔ ہاؤسنگ یونٹس کی کمی کے پیچھے ایک مرکزی وجہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے حقیقی پوٹینشل کا ادراک نہ کرنا بھی ہے۔ پاکستان میں کبھی بھی نیشنل اربن پالیسی کا قیام ضروری نہیں سمجھا گیا، وسیع پیمانے پر ہاؤسنگ کیلئے کسی جامع پروگرام کا ہماری تاریخ میں کوئی خاص ذکر نہیں ملتا، پٹواری کلچر کہہ لیں یا لینڈ رجیسٹری کا فرسودہ نظام، یہ سیکٹر دقیا نوس روایات کی آماج گاہ بنا رہا۔

وسائل کا فقدان

اس حکومت سے قبل اس سیکٹر میں ون ونڈو آپریشن کی نظیر نہ تھی، تعمیر کے نام پر ایک اینٹ رکھنے کو بھی بیش بہا این او سیز کے حصول یعنی ہر طرح کے تہہ در تہہ انتظامی و ادارہ جاتی منظوريوں سے جوڑ دیا گیا تھا۔ شاید اسی لیے کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کے لیے بینک قرضے دینے پر آمادہ نہ رہے، فور کلوژر قوانین میں نرمی نہ تھی اور کیڈیسٹرل میپنگ کا تو خیر ذکر ہی نہ کریں۔ حال ہی میں ایوانِ بالا کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں اس بات کا ذکر کیا کہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں 28 ہزار ایکڑ سے زائد کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ قبضہ مافیا کا سرکاری و غیر سرکاری پر قبضہ بھی ہاؤسنگ سیکٹر میں کم پروڈکشن کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اس ضمن میں حکومتی اعلان کہ قبضہ مافیا سے چھٹکارے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائیگی ایک اُمید کی کرن ہے۔ چونکہ انتظامیہ اس بار کیڈسٹرل میپنگ سے حاصل شدہ ڈیٹا کے بعد میدان میں اُتری ہے لہٰذا اُمیدِ سحر سے جڑے رہنے میں کوئی حرج نہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.