fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

کم لاگت کے ہاؤسنگ منصوبوں سے مقامی معیشت کو کیسے فائدہ ہوتا ہے؟

کم لاگت کے مکانات کی تعمیر، یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں بہت سارے مغالطے اور بہت ساری قیاس آرائیاں مشہور ہیں۔ سچ مگر یہ ہے کہ آج کا دور افورڈیبل ہاؤسنگ یعنی اُس ہاؤسنگ کا ہے جو عام آدمی کی پہنچ میں ہو۔ یہ نہ صرف سماجی بہتری کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ایک مضبوط مُلکی معیشت بھی جنم لیتی ہے۔

ریئل اسٹیٹ کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ امیروں کی دنیا کا لفظ ہے اور امیر ڈویلپرز صرف امیر خریداروں کے لیے ہی گھر بناتے ہیں، ہاؤسنگ پراجیکٹس کا جال صرف امیروں کے لیے بچھایا جاتا ہے جس کا فائدہ صرف معاشرے کے ایک حصے کو ہوتا ہے۔ اب یہ تاثر غلط ہوتا جا رہا ہے اور کم لاگت کے ہاؤسنگ منصوبے اور اُن کا معاشرے کے متوسط طبقے پر مثبت اثر دیکھا جا رہا ہے۔

حکومتِ وقت کی توجہ کا ایک بڑا حصہ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم پر یعنی کم لاگت کے ہاؤسنگ پراجیکٹس پر ہے۔ حکومتِ وقت معاشرے کے نچلے طبقے کے لیے آسان شرائط  پر گھر بنانے کی خواہاں ہے۔ آج جائزہ لیتے ہیں کہ اس سے مقامی معیشت کو کیسے فائدہ ہوسکتا ہے۔

 

روزگار کے معتدد مواقع

سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ریئل اسٹیٹ ایک ایسا سیکٹر ہے جس کا پہیہ چلنے سے تقریباً 50 صنعتوں کا پہیہ چلتا ہے۔ انہیں الائیڈ انڈسٹریز کہتے ہیں۔

 

 

پاکستان کا کنسٹرکشن سیکٹر جی ڈی پی کا 12 سے 13 فیصد بنتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومت ایسے پراجیکٹس متعارف کرواتی ہے جس سے مکانات کی تعمیر ہوتی ہے اور اس کے لیے افرادی قوت درکار ہوتی ہے تو اس سے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ریت، بجری، سیمنٹ، بھٹے، لکڑیوں اور سرامکس سمیت بہت سی صنعتیں چلتی ہیں جن سے بہت سے گھروں کا چولہا جلتا ہے۔

 

لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ

لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ بھی ایک بڑا فائدہ ہے۔ ایک تو ایسے کہ لوگوں کو روزگار ملتا ہے تو ظاہری سی بات ہے کہ اُس سے مزید معاشی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں۔ ایک ایسے کہ لوگ آسان اقساط اور شرائط پر مکان لیتے ہیں تو اُن کے پاس پیسوں کی بچت ہوتی ہے اور دیگر اخراجات کے لیے دامن کشادہ ہوجاتا ہے۔

 

 

آج کے دور میں ایک تحقیق کے مطابق امریکی اپنی ماہانہ آمدنی کا آدھا حصہ رینٹ کی مد میں خرچ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کرایہ داری اور اس پر خرچ کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ کم لاگت میں سر پر چھت سے بہت سی رقم بچ سکتی ہے جس کا یقیناً فائدہ اُن کی قوتِ خرید پر ہوتا ہے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر سے معیشت کو 15 ٹریلین کا فائدہ ہوگا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ 100 ارب ڈالر سے زائد بنتے ہیں۔ یہ پاکستان کے حالیہ جی ڈی پی کا قریب 30 فیصد بنتا ہے۔

 

حکومتی انفراسٹرکچر کی بہتری

غیر مُلکی جریدے بلومبرگ کے مطابق جب حکومت ایسے پراجیکٹس کا آغاز کرتی ہے جس سے عام آدمی کے لیے چار دیواری کا انتظام ہو تو اس سے رقم حکومت کے پاس یعنی زیرِ انتظام اداروں کے پاس جاتی ہے جس سے حکومت کے پاس عام آدمی پر خرچ کرنے کے لیے رقم جمع ہوتی ہے۔

 

 

ظاہری سی بات ہے کہ اِس سے حکومتی انفراسٹرکچر بھی بہتر ہوتا ہے۔ لوگوں کا طرزِ زندگی تبدیل ہوتا ہے اور حکومت لوگوں کی خوشحالی کے اقدامات لے سکتی ہے۔

 

ہاٹ مارکیٹس کا قیام

ایک طویل مدتی فائدہ یہ ہے کہ لوگ سطح غربت سے اُوپر آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جگہ ایسی ہے جہاں پراپرٹی کی قیمتیں اُوپر چلی گئی ہیں اور لوگ اب وہاں رینٹ کے پیسے نہیں دے پا رہے تو اُنھیں وہاں سے آج نہیں تو کل ہجرت کرنی ہوتی ہے جس سے لوگ ہاٹ مارکیٹس یعنی اُن جگہوں سے دور ہوجاتے ہیں جہاں کا معاشی بازار گرم ہو۔

 

یوں آج نہیں تو کل وہاں بھی معاشی پہیہ جام ہوتا ہے۔ اِس کے برعکس ایسے پراجیکٹس کا آغاز جس کے ذریعے لوگوں کے پاس کم لاگت میں اپنے گھر میسر آجائیں تو اس سے لوگ ہجرت اور نقل مکانی سے بچ جاتے ہیں اور معاشرے کے سطح غربت سے اُوپر آنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔

 

کچھ غیر مُلکی مثالیں

چلیے یہی امر چند غیر مُلکی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔ آسٹریا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کی 60 فیصد آبادی ایسے گھروں میں رہتی ہے جن کی تعمیر حکومت نے خود کی ہے۔ اس میں معاشرے کے اونچے نچلے یعنی تمام طبقے کے لوگ آتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ رینٹ کو ان گھروں کی حالت بہتر بنانے سے منسلک کردیا گیا ہے یعنی ان گھروں کو اچھی حالت میں رکھا جاتا ہے۔

 

 

اسی طرح ٹوکیو میں رہائش کا بہت مسئلہ رہتا تھا۔ ٹوکیو میں ہاؤسنگ قوانین کو اس قدر آسان کردیا گیا کہ اب وہاں نجی اور حکومتی ہاؤسنگ اسکیموں کی ایک بھرمار ہے اور اس میں معاشرے کے نچلے طبقے کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ مونٹریال کی مثال تو اس ضمن میں سب سے آئیڈیل ہے۔ مونٹریال نے سب سے زیادہ توجہ سنگل اور علیحدہ گھروں کے بجائے یکجا ہاؤسنگ اپارٹمنٹس کو دی ہے۔ شہر میں 5 منزلہ عمارات کی بہتات ہے اور فیملی سائز کے ہاؤسنگ یونٹس ایسے تعمیر کیے گئے کہ متوسط طبقے کی رہائش کا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔

 

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.