fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

چھوٹے کمرے کشادہ نظر آ سکتے ہیں، مگر کیسے؟

اپنا گھر سکون کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ دن بھر کے کام كاج میں انسان متعدد بار اپنی گھڑی دیکھتا ہے کیونکہ وہ اس لمحے کا انتظار کرتا ہے جب اس کے ہاتھ میں چھٹی کا پروانہ تھما دیا جائے اور وہ اپنے گھر کی راہ پر چل پڑے۔ اپنے گھر جب انسان دن بھر کی تھکان لیے جاتا ہے تو اُسے آرام اور طمانیت کا وہ احساس ہوتا ہے کہ جس کی نظیر اُسے اور کہیں نہیں ملتی۔

دیکھا جائے تو اپنے گھر میں انسان اپنے آپ کی اصل تصویر ہوتا ہے۔ اُسے کسی کردار کو نبھانے کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی اور یوں وہ صرف اپنے اصل کے قریب ہوتا ہے۔

اس کانسیپٹ کو تھوڑا اور وسیع کرتے ہیں۔ اپنا گھر جو امن اور سکون کا گہوارہ ہوتا ہے، وہیں اس گھر میں ہی انسان کا ایک کمرہ ایسا ہوتا ہے جو اُس کا اپنا ہوتا ہے۔ گھر پر کوئی بیٹھک ہو یا مہمانوں کی آمد ہو، محفل کی خلاصی کے بعد انسان جہاں کا رخ کرتا ہے وہ اس کا اپنا کمرہ ہوتا ہے۔

اپنے کمرے کی اہمیت

اپنے کمرے میں انسان کی شخصیت سے جُڑا ہر پہلو نظر آتا ہے۔ اُس کی ذات سے جُڑا سب سامان، اُس کی استعمال کی ہر شے اُس کے کمرے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ آپ اگر کسی پینٹر کا کمرہ دیکھیں، تو آپ کو متعدد نامکمل تصاویر، مسترد ڈیزائنز اور بکھرے رنگ دکھائی دیں گے۔ کسی شاعر کا کمرہ دیکھیں تو وہ قلم، دوات، کاغذات اور نا مکمل تحاریر سے بھرا پڑا ہوگا۔ یعنی انسان کا کمرہ ہی وہ جگہ ہے جہاں اُس کی ذات اپنے مکمل آب و تاب کے ساتھ آشکار ہوتی ہے۔ یہاں اُسے ہر طرح کی آزادی نصیب ہوتی ہے۔

کشادگی کا احساس ضروری کیوں؟

مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے کمرے میں سالہا سال ایک ہی سیٹنگ اور ڈیزائن سے اکتاہٹ کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ کورونا وبا کے دوران بہت سی سوشل میڈیا سائٹس اور انٹرنیٹ کے متعدد بلاگز پر پڑھنے کو ملا کہ لوگ اپنے ہی کمرے سے بور ہونے لگے۔

لوگ سیٹنگ تبدیل کرنے لگے، رنگ و روغن کی مختلف اقسام کے تجربات کرنے لگے اور کچھ نے تو اُکتا کر کمرے کا مکمل نقشہ ہی بدل ڈالا۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ اُن کا کمرہ چھوٹا ہے، اس میں سامان بہت ہے اور اندر تنگی کے باعث گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔ اگر آپ بھی ایسے ہی کسی مسئلے کا شکار ہیں تو یہ تحریر اور اس کا ایک ایک لفظ آپ کے لیے ہیں۔

اس تحریر میں چند ایک ایسے مشورے ہیں کہ جن سے آپ اپنے چھوٹے کمرے میں بھی کشادگی کا پہلو لا سکتے ہیں۔

کمرے کو سادہ رکھیے

ضروری یہ ہے کہ کمرہ سادہ ہو۔ کمرے میں سادگی کا جتنا رجحان ہوگا، طبیعت سے تنگی کا احساس اتنا ہی دور ہوگا۔ کمرے میں شوخ و شنگ فرنیچر، فینسی لائٹس اور گہرے رنگوں کو جگہ نہ دیں۔ کمرے میں سوائے بیڈ کے، کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو بہت زیادہ جگہ پکڑے۔

کمرے میں 10 قدم چلنے کی واکنگ اسپیس بنائیں یعنی کافی ایسی جگہ رکھیں جہاں صرف قالین اور زمین نظر آئے۔ کمرے میں ایک جگہ ایسی ضرور رکھیں جہاں کوئی سامان نہ پڑا ہو۔ اسے آج کل کی زبان میں مینیملزم کہتے ہیں یعنی وہ چیز جو کم ہو، اُس کا اثر کافی زیادہ ہوتا ہے۔

مناسب روشنی کا انتظام کیجئے

کمرہ جب مکمل طور پر بند ہوگا تو یقینی طور پر کمرے میں تنگی کا احساس ہوگا۔ انگریزی مقولہ کہتا ہے کہ اگر آپ نیچر کو یعنی باہر کے قدرتی ماحول میں کمرے کے اندر لائیں تو آپ کو احساسِ کشادگی ہوگا۔ اس ضمن میں مناسب کھڑکیوں کا انتظام کریں اور ایسے کہ اس سے باہر کا منظر صاف دکھائی دے۔

رات کے ٹائم بیشک اس کھڑکی کو پردوں سے ڈھک لیں مگر دن کے وقت باہر کا منظر صاف نظر آئے اور اندر دھوپ کی آمد ہو، تو کمرہ بلکل بند اور تنگ نظر نہیں آتا۔

کمرے کی ڈی کلٹرنگ کیجئے

ہم بہت سی اشیاء کو صرف اس کیے سنبھال لیتے ہیں کہ شاید کل کو یہ کام آجائے۔ ایسا مگر کم ہی ہوتا ہے اور عموماً یہ اشیاء جگہ پکڑے رکھتی ہے اور استعمال میں نہیں آتی۔ آپ آج ہی اپنے کمرے پر نظر دوڑائیں۔ آپ کو بہت سی ایسی اشیاء نظر آئے گی جس کا استعمال شاید آپ نے پچھلے ایک سال میں ہی نہ کیا ہو۔ کمرے سے ایسی تمام اشیاء باہر نکالیے جس کا آپ کی روز مرہ زندگی میں کوئی فائدہ نہ ہو۔

ڈبل ڈیوٹی ڈیکور

کمرے میں ایسی ڈیکوریشن کو جگہ دیں جس سے اضافی مقاصد بھی لیے جائیں۔ ایک سادہ سی مثال سے اس امر کو واضح کیے دیتے ہیں۔ لوگ عموماً بیڈ کے سائیڈ پر ایک لیمپ رکھ دیتے ہیں۔ یہ لیمپ عموماً کافی جگہ پکڑے رکھتا ہے اور اس کا روز مرہ کی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

ٹیبل لیمپ کی جگہ ماؤنٹڈ لائٹس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی لائٹ جو کہ دیوار میں نصب ہو، یعنی جگہ بھی نہ لے اور اپنا فرض یعنی روشنی کا بھی انتظام کرے۔ اسی طرح آپ کا بیڈ شب میں تو آپ کے سونے کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر دن میں اگر آپ تکیوں اور ایک چھوٹے سے سائڈ ٹیبل کی مدد سے آپ اس کو ہی اپنے آفس اسپیس کے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.