fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

پاکستان میں پراپرٹی کی فروخت کا مکمل طریقہ کار

پراپرٹی بیچنے کے کچھ مرحلے ہیں اور یہ مرحلے اتنے مشکل نہیں ہے۔ آسان الفاظ میں سنا اور سمجھایا جائے تو سمجھ بھی آجاتا ہے اور یاد بھی رہ جاتا ہے۔ آئیے اِن معاملات پر ایک ایک کر کے روشنی ڈالیں اور آپ کو بتائیں کہ پراپرٹی کیسے فروخت ہوتی ہے۔

کہتے ہیں کہ پراپرٹی بیچنا، پراپرٹی خریدنے سے زیادہ آسان ہے۔ یہ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ پراپرٹی بیچنے کے لیے مختلف قسم کے ٹیکس نہیں دینے پڑتے اور متعدد لوگوں سے کانٹیکٹ نہیں کرنا پڑتا کیونکہ خریدار عموماً خود ہی پراپرٹی بیچنے والے کے پاس آجایا کرتے ہیں اور پراپرٹی بک جایا کرتی ہے۔

 

ابتدائی مارکیٹ اسٹڈی

جب آپ اپنی پراپرٹی بیچنے کا اصولی فیصلہ کر چُکے ہوں تو سمجھداری کا قدم یہ ہے کہ پہلے مارکیٹ کا پورا سروے کرلیں۔

 

 

یعنی مکمل جانکاری حاصل کرلیں کہ آپ کی پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو کیا ہے، پراپرٹی کا مارکیٹ ریٹ کیا ہے اور کیسے یعنی کن کن اقدامات سے یہ ایک بہتر ریٹ میں بک سکتی ہے۔

 

ایجنٹ ڈھونڈنے کا مرحلہ

جب آپ یہ جان لیں کہ پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو کیا ہے تو پھر کسی اچھے ریئل اسٹیٹ ایجنٹ سے رابطہ کریں۔ اکثر ایسے ہوتا ہے کہ جب آپ مارکیٹ اسٹڈی کرلیں تو یہ خیال آتا ہے کہ آپ کو ایجنٹ کی ضرورت نہیں اور پراپرٹی آپ خود بھی بیچ سکتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔

 

 

آپ کو پراپرٹی بیچنے کے لئے ہر حال میں ایک ایجنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایجنٹ بہت سے مشکل معاملات، جو ایک عام شخص کے لیے پیچیدہ ہوتے ہیں، نہایت ہی آسانی سے حل کر لیتے ہیں۔

 

ایجنٹ کا کمیشن طے کرلیں

ایجنٹ کمیشن کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ اور یہ کمیشن عموماً ایک فیصد ہوتا ہے۔ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کمیشن کو ڈیل کلوز کرنے کے ٹائم کسی اور طریقے سے ایڈجسٹ کرلیں تاہم آپ کو ایجنٹ کے ساتھ بیٹھ کر کمیشن کے تناسب کو حتمی شکل دینی چاہئے اور ساتھ ہی یہ بھی طے کرنا چاہیے کہ اس کی ادائیگی کب اور کیسے ہوگی۔ زیادہ تر معاملات میں جب آپ کو بحیثیتِ فروخت کنندہ پوری ادائیگی موصول ہوتی ہے تو ہی ایجنٹ کو کمیشن کی ادائیگی ہوتی ہے۔

 

 

بعض اوقات یہ باہمی طور پر طے کیا جاتا ہے کہ ایک بار خریدار بیانہ کی ادائیگی کر لے تو اس کے بعد ایجنٹ کو کمیشن کے ایک مخصوص حصے کی ادایگی کر دی جاتی ہے۔ بس یہ یقینی بنائیں کہ ان تمام شرائط پر پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے پہلے سے ہی اچھی طرح سے تبادلہ خیال کرلیا جائے۔

 

ٹوکن کی ادائیگی

آپ کا مکان بیچنے کے کچھ مراحل ہیں۔ ایک بار جب آپ کو صحیح خریدار مل گیا تو اسے آپ کو ٹوکن اماونٹ کی ادایگی کرنی ہوگی۔

یہ ایک ایسی رقم ہے جو پراپرٹی خریدنے میں خریدار کا ارادہ اور دلچسپی ظاہر کرتی ہے۔ ایک طرح سے یہ اس پراپرٹی کو خریدنے والے کے لئے بھی محفوظ رکھتا ہے کیونکہ فروخت کنندہ اُسے کسی اور کے ساتھ ڈسکس نہیں کرتا۔ ٹوکن کی رقم کی ادائیگی کے بعد، آپ متوقع خریدار کو تصدیقی مقاصد کے لئے پراپرٹی کی اصل دستاویزات کی فوٹو کاپی دے سکتے ہیں۔

 

دستاویزات کی توثیق

اگر زمین کسی اتھارٹی یا ادارے کے دائرہ اختیار میں آتی ہے تو آپ کو ان دستاویزات کی تصدیق کے لئے خریدار کے ساتھ اُس اتھارٹی کے دفتر ایک دورے کی درخواست جمع کروانا ہوگی۔

 

 

اس کے نتیجے میں، لینڈ اتھارٹی کے عہدیدار آپ کو اور خریدار کو کسی خاص دن دفتر آنے کے لئے کہیں گے۔ اس دن آپ کی موجودگی میں خریدار کو وہ ریکارڈ دکھائے جائیں گے جو جائیداد کی توثیق کرتے ہیں۔

 

ابتدائی رقم کی ادائیگی

ایک بار جب دستاویزات کی تصدیق ہوجائے تو خریدار ابتدائی ڈپازٹ کے طور پر ایک خاص رقم ادا کرتا ہے جسے بیانہ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ جائیداد کی فروخت کی قیمت کا 25 فیصد حصہ ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر اسٹامپ پیپر پر بھی دستخط کیے جاتے ہیں جن میں شرائط باہمی رضامندی کے ساتھ طے کی جاتی ہیں۔

اسٹامپ پیپر اس وقت کی وضاحت کرتا ہے جس میں خریدار بقیہ رقم کی ادائیگی کرے گا اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے تو جرمانے کی بھی وضاحت ہوگی۔اگر آپ بیانہ وصول کرنے کے بعد اس پراپرٹی کے بارے میں اپنا خیال بدل لیتے ہیں تو آپ قانون کے پابند ہوں گے کہ بیانے کی رقم کو بطور جرمانہ واپس کردیں۔

 

نو ڈیمانڈ سرٹیفکیٹ

جیسے ہی ادائیگی کی تاریخ قریب آتی ہے، آپ کو نو ڈیمانڈ سرٹیفکیٹ کے لئے درخواست دینا ہوگی۔ اس سند کے بغیر جائیداد کی منتقلی ممکن نہیں ہے، جو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر یا شہر کی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے حاصل کی جا سکتی ہے، اس پر منحصر ہے کہ آپ کا مکان یا زمین کہاں واقع ہے۔

 

 

یہ دستاویز اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ آپ پر کوئی واجب الادا رقم نہیں ہے۔ اس میں خریدار اور بیچنے والے دونوں پر لاگو ٹیکس کے بارے میں بھی معلومات شامل ہیں نیز ٹرانسفر فیس اور اسٹامپ ڈیوٹی بھی۔ این ڈی سی کے لئے درخواست دینے سے متعلق ایک خاص معاوضہ ہے جو مختلف ڈویلپرز کے لئے مختلف ہے۔ ایک بار جب آپ اپنا این ڈی سی وصول کرلیں، تو یقینی بنائیں کہ آپ خریدار کو بھی ایک کاپی دیں۔

 

ٹیکس کی ادائیگی

پراپرٹی بیچنے والا ہونے کے ناطے آپ کو پاکستان میں پراپرٹی ٹیکس کے بارے میں سب کچھ معلوم ہونا چاہئے۔ فروخت کنندہ کو کیپٹل گین ٹیکس ادا کرنا ہوگا جو ٹیکس فائلر کے لئے پراپرٹی ویلیو کا ایک فیصد اور نان فائلر کے لئے دو فیصد ہے۔

 

 

سی جی ٹی کا اطلاق ان پراپرٹیز پر ہوتا ہے جو ان کی خریداری کی تاریخ کے دو سال کے اندر بیچی جاتی ہیں۔ ٹیکس کی اس ادائیگی کو ہاؤسنگ سوسائٹی یا لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں جمع کروانا ہوتا ہے۔ دوسری طرف پراپرٹی کے حوالے ہونے سے قبل خریدار کو ٹرانسفر فیس، اسٹامپ ڈیوٹی، سی وی ٹی، ٹی ایم اے ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں جائیداد کی منتقلی کا طریقہ کار جیسا بھی ہے پر خریدار اور فروخت کنندہ، دونوں کی موجودگی بہت ضروری ہے۔

 

ٹرانسفر لیٹر

دونوں فریقین کسی خاص دن متعلقہ دفتر جائیں گے اور خریدار ادائیگی کا پے آرڈر فروخت کنندہ کے حوالے کرتا ہے۔ اِس کے بعد افسر اس پراپرٹی کو اُس کے نام پر منتقل کرتا ہے اور اس لین دین کی تفصیل پر مشتمل ایک لیٹر جاری کرتا ہے۔

 

 

پھر دونوں فریق جائداد کے مقامی رجسٹرار کے پاس جاتے ہیں، جہاں گواہوں کے درمیان اعتراف ہوتا ہے کہ پراپرٹی باہمی اتفاق رائے سے بیچی اور خریدی گئی ہے۔ اس کے بعد رجسٹرار اراضی کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے ضروری تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور جائیداد کا ٹائیٹل خریدنے والے کے نام منتقل ہوجاتا ہے۔ پے آرڈر اکثر ایک دو دن میں آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتا ہے اور یوں پراپرٹی فروخت ہوجاتی ہے۔

 

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.