fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

پاکستان میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کیسے باقاعدہ بنایا جائے؟

حال ہی میں ریئل اسٹیٹ ڈیویلپمنٹ اینڈ اٹھارٹی 2019 بل قومی اسمبلی سے پاس ہوا اور اِس کے بعد یہ قانون عمل میں آ گیا کہ اسلام آباد میں ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام کیا جائے۔

ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا پس منظر

کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم عمران خان نے مجوزہ اتھارٹی کے قیام کی ہدایت کی جس سے ان امیدوں کو تقویت ملی کہ ان کی حکومت مُلک کی حقیقی صلاحیتوں کا ادراک کرنے اور معاشی نمو کو بڑھانے کے لئے پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کی بے قاعدہ مارکیٹ کو منظم کرنے میں سنجیدہ ہے۔

تعمیراتی صنعت کے لئے حکومت کی مالیاتی مراعات کی کامیابی بڑی حد تک شفاف ریگولیٹری فریم ورک کے قیام اور اُس پر جلد عمل درآمد پر منحصر ہے۔

ریئل اسٹیٹ گُرو جناب شفیق اکبر کہتے ہیں کہ ایک متحرک، محفوظ اور قابل اعتماد رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے قیام کے لئے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کا قیام بہت ضروری ہے۔

پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کے موجودہ مسائل

پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بڑی حد تک ایک غیر دستاویزی معیشت پر کام کرتی ہے اور ایک موثر ریگولیٹری فریم ورک کی عدم موجودگی کی وجہ سے متعدد مسائل سے دوچار ہے۔ اِس ضوابط کے فقدان پر تمام اسٹیک ہولڈرز، خریداروں، ڈویلپرز، فروخت کنندگان، کرایہ داروں وغیرہ کو ہمیشہ گلہ رہتا ہے۔

دھوکہ دہی اور ملکیت کی لڑائی، کرایہ داری کے تنازعات پر اکثر اسٹیک ہولڈرز لمبی عدالتی لڑائیوں اور کارروایوں میں پھنس جاتے ہیں جس سے ایک غیر منظم کاروباری ماحول جنم لیتا ہے، جس سے نہ صرف سرمایہ کار کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ رئیل اسٹیٹ پر عمومی اور عوامی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔

اس سے زیادہ اہم بات یہ بھی ہے کہ اس شعبے سے وصول کیا جانے والا ٹیکس اس کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے کیونکہ گذشتہ چند دہائیوں سے ریل اسٹیٹ، ٹیکس نادہندگان کے لئے بھاری مقدار میں غیر قانونی رقم جمع کرنے کے لئے ایک پناہ گاہ بن چکی ہے۔

ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی، توقعات اور اُمیدیں

حالیہ برسوں میں، حکومت نے اس سیکٹر کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، یہ اقدامات ایک ریگولیٹری اٹھارٹی اور پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی کے باعث زیادہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئے۔

اب چونکہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا وُجود واضح ہوجائے گا تو اس سے توقع کی جائے گی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے اور حکومت اور نجی شعبے کے مابین ایک پُل بنے۔ یوں رکاوٹیں دور ہوں گی اور ریل اسٹیٹ مارکیٹ کو تقویت دینے کے لیے حکمت عملی تیار کی جاسکے گی۔

ایک بار اگر حکومت نے ایک شفاف سرمایہ کاری کا نظام واضح کردیا اور ایک رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو ایک موثر ادارے کے ذریعہ کنٹرول کرلیا تو اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاران کو راغب کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
حکومت اس بل کو ملک میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے نظم و نسق اور فروغ کے لئے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اتھارٹی کے اہم نکات پر ایک نظر

اب بات کرتے ہیں اِس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیدہ چیدہ نکات کی جو کہ درج ذیل ہیں۔

وفاقی حکومت ریگولیٹری باڈی کا چیئرمین مقرر کرے گی۔

رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے لئے پاکستان میں کسی بھی قسم کی پراپرٹی فروخت کرنے کے لئے اتھارٹی کے ساتھ اندراج لازمی ہوگا۔ اس میں پلاٹ، مکانات اور عمارات کی فروخت سب شامل ہیں۔

رئیل اسٹیٹ کے کسی بھی منصوبے پر کسی بھی طرح کا کام شروع کرنے سے پہلے ڈویلپرز کے لئے بھی ریگولیٹری باڈی سے منظوری لینا لازم ہوگا۔

ریگولیٹری باڈی سے منظوری حاصل کرنے کے لئے ڈویلپرز کو مستقبل کے منصوبوں کے ساتھ اپنے موجودہ اور ماضی کے ریل اسٹیٹ پراجیکٹس سے متعلق تمام تفصیلات جمع کرانی ہوں گی۔

خلاف ورزی کی صورت میں ریگولیٹری باڈی کے پاس کسی بھی پروموٹر اور مارکیٹر کا لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار ہوگا۔

رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی ریل اسٹیٹ اجینٹس کے ساتھ ان افراد کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گی جنھیں جائیداد الاٹ کی گئی ہے۔

سول عدالتیں غیر منقولہ جائیداد کے تنازعات سے متعلق معاملات سماعت کے لیے مقرر نہیں کریں گی جو متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کے دائرہ کار میں آئیں گی۔

کسی بھی رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ پر کام شروع کرنے سے پہلے ڈویلپرز کو ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ منظوری کے بغیر کسی بھی ڈویلپر یا مارکیٹر کو جائیداد فروخت کرنے یا اس منصوبے سے متعلق اشتہار شائع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

پاکستان میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ مالک اور خریدار، دونوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔ نیز، روز مرہ کی خرید وفروخت سے جُڑے تنازعات کو پیشہ ورانہ طریقے سے اور بروقت حل کیا جائے گا، جس سے لوگوں کو اب پیسہ ضائع ہونے کے بجائے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

مذید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.