fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

پاکستان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام اور وابستہ حقائق

گزشتہ دنوں ادارہ برائے شماریات پاکستان کی ایک رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ رپورٹ میں حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان میں پڑھے لکھے افراد میں سے 24 فیصد مرد اور 40 فیصد خواتین بیروزگار ہیں۔ اب اسے حُسنِ اتفاق کہیں یا کسی ایڈیٹر کا کمال لیکن اخبار کے جس صفحے پر یہ خبر درج تھی عین اسی کے ساتھ دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل کے سی ای او سندر پچائی کا ایک انٹرویو چھپا تھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے اِس دور میں ہر شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے روزگار کے بیش بہا مواقع اپنی ہی جیب میں لیے پھرتا ہے۔ سندر پچائی کے مطابق ٹیکنالوجی نے اس دور میں وہ آسانی پیدا کردی ہے کہ جس شخص کے پاس دنیا کیلئے جو کچھ ہے وہ اپنے موبائل فون کے ذریعے سب کے سامنے پیش کرسکتا ہے اور بدلے میں منہ مانگا معاوضہ وصول کرسکتا ہے۔

اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام

رواں ماہ ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلیکمیونیکیشن کے ایک اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی بل 2021 متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
عہدیداروں نے وضاحت کی کہ عالمی سطح پر مسابقتی اور برآمد پر منحصر ڈھانچے اور ماحولیاتی نظام کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے کیلئے ادارہ جاتی اور قانون سازی کی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ ارکان نے مذکورہ قانون سازی کی حمایت کی اور بل کو ملکی آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کیلئے ایک بہت اہم اقدام قرار دیا۔

ایک ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے خصوصی ٹیکنالوجی زونز کے قیام کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں اور پاکستان کی آبادی، جس کا بیشتر حصہ نوجوانوں پر محیط ہے، کے لیے معاشی و معاشرتی ترقی کا ایک بہترین اسٹرکچر قائم کیا جاسکے۔ دیکھا جائے تو یہ واقعی ایک انقلابی اقدام ہے۔ مانا کہ ٹیلنٹ، ریسورس اور پوٹینشل میں ہمارا کوئی ثانی نہیں اور ذرا نم ہونے پر یہ مٹی اپنی زرخیزی کے بیش بہا ثبوت دیتی ہے مگر ایک مرکزی ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام کسی بھی سیکٹر کو ایک ضابطے اور قائدے کے مطابق چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

 

ٹیکنالوجی زونز پر حکومتی موقف

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اُن کی حکومت نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور جدت کے اِس دور سے مستفید ہونے میں معاون بننا چاہتی ہے۔ بقول اُن کے ٹیکنالوجی ہی وہ گروتھ ڈرائیور ہے کہ جس سے صنعت، تجارت اور تعلیم کے میدان میں ترقی کا رجحان بڑھایا جاسکتا ہے۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کے قیام سے سرمایہ کاران، انٹرپرنیورز اور کاروباری طبقے کو سائنس و ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کا مکمل سامان مہیا کیا جائیگا اور اُنہیں اپنے کارہائے نمایاں کی انجام دہی میں حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہوگی۔ ایک موقع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے رواں سال کے ابتدائی مہینے یعنی جنوری میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کا قیام کیا تاکہ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی میں روزگار کی شرح کو بڑھایا جاسکے اور آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دیا جاسکے۔

کچھ مثالوں کی روشنی میں

اس کی ایک مثال یہیں سے لے لیں کہ گزشتہ دنوں پاکستانی اسٹارٹ اپ ایئرلفٹ نے سیریز بی فنانسنگ میں 85 ملین ڈالر کی رقم حاصل کی۔ یہ پاکستانی اسٹارٹ اپ ہسٹری میں اب تک کی سب سے بڑی فنانسنگ ہے۔ اس فنڈنگ کے ذریعے اس نجی کمپنی نے سال 2021 میں پاکستان کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں 5 فیصد تک کا اضافہ کیا۔ اسی طرح سے حال ہی میں ایک اور پاکستانی اسٹارٹ اپ پوسٹ ایکس نے 1.5 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی۔ اب سوچیے کہ اگر اسی کو نکتہ آغاز گردانتے ہوئے ہمارے پالیسی ساز اس امر کو سمجھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ملکی ترقی کیلئے ضروری اس سیکٹر کی گروتھ کیلئے انقلابی اقدامات کا آغاز کرلیتے ہیں تو یقیناً پاکستان محدود وسائل کے ساتھ بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں کمالات دکھانے والے ممالک کی فہرست میں صف اول میں ہوگا۔

 

 

ٹیکنالوجی پر مبنی ایک روڈ میپ کی ضرورت

اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے چیئرمین عامر ہاشمی کے مطابق اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام پاکستان کو جدت کے اِس دور سے استفادہ کرنے کا مکمل موقع فراہم کریگا۔ اُنہوں نے کہا کہ دنیا بڑی تیزی سے ترقی کررہی ہے اور پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی ایک روڈ میپ کی ضرورت ہے جس میں معاشرے کے ہر شخص کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے قیام سے سرمایہ کاروں، بلڈرز اور ٹیکنالوجی کمپنیز کو حکومت کے ساتھ پارٹنرشپ کی صورت میں مراعات دی جائیں گی اور ون ونڈو فسیلیٹیشن کا بھی آغاز کیا جائیگا جہاں لوکل اور انٹرنیشنل کمپنیوں کی بھرپور معاونت کی جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیک زونز کا مقصد ٹیکنالوجی ٹرانسفر، بیرونی سرمایہ کاری، ہیومن کیپٹل ڈویلپمنٹ، تحقیق و ترقی اور برآمدات بڑھانے کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.