fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

ٹاؤن پلاننگ کیوں ضروری ہے؟

شہری احاطوں میں ٹاؤن پلاننگ کی اہمیت و افادیت سے انکار مشکل ہے۔ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، اور جس تیزی سے یعنی جس تناسب سے بڑھ رہی ہے، یوں گمان ہوتا ہے کہ زمین پر جگہ کم پڑتی جارہی ہے لیکن آبادی کا زور ہے جو کسی صورت کم پڑنے کا نام نہیں لے رہا۔

آج کا دور وسائل کے گرد گھوم رہا ہے۔ ہر شخص خوشحالی چاہتا ہے اور ایسے میں ایک بہتر طرزِ زندگی کی تلاش میں ہے۔ یوں لوگ ایک کوالٹی لائف سٹائل کی تلاش میں جوق درجوق شہروں کا رخ کررہے ہیں۔

ہمارے شہر پھیلاؤ كا شکار ہیں اور اس ضمن میں ٹاؤن پلاننگ پہلے کی نسبت زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔ ٹاؤن پلاننگ کے بغیر شہر پھیلتے چلے جاتے ہیں اور معاشی، معاشرتی اور ماحولیاتی مسائل کی آماجگاہ بن جایا کرتے ہیں۔

چونکہ ہم ایسا نہیں چاہتے اس لیے اس تحریر میں ہم ٹاؤن پلاننگ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالیں گے اور اس بات کو سمجھیں گے کہ ٹاؤن پلاننگ ہوتی کیا ہے، یہ کیوں ضروری ہے، کیسے کی جاتی ہے اور اگر نہ کی جائے تو اس کے نقصانات اور اثرات کیا ہوتے ہیں۔

ٹاؤن پلاننگ کا مطلب کیا ہے؟

ٹاؤن پلاننگ کا مطلب ہے کہ ایک مخصوص احاطے کا بہتر استعمال کیسے کیا جائے۔ ایک ٹاؤن، ایک شہر ایک مقررہ اراضی پر بسایا جاتا ہے۔ وہ زمین کچھ مخصوص وسائل اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے، اور رہنے والوں کو اُن وسائل کا بہتر استعمال مقصود ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک پلان ضروری ہوتا ہے تاکہ کوئی بھی جب اس زمین پر رہے تو وہ تمام تر وسائل کا بہتر استعمال کرسکے۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم کسی شہر میں کیسے آباد ہوتے ہیں۔ آیا ہم ایک پلان کے تحت، ایک سوچ کے تحت وہاں آباد ہوتے ہیں يا ہم ایسے آباد ہوتے ہیں کہ شہر ایسا منظر پیش کرے کہ جس کا جہاں دل کیا وہ وہاں آباد ہوگیا۔ کہتے ہیں جب آپ ایک پلان بنانے میں ناکام ہوجائیں تو دراصل آپ ناکام ہونے کا پلان بنا چکے ہوتے ہیں، لہٰذا پلاننگ نہایت ضروری ہے۔

 

ٹاؤن پلاننگ کی بنیاد اس بات میں ہے کہ ضروریاتِ زندگی کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے۔ شہروں کو اس انداز میں بنایا اور بسایا جاتا ہے کہ وہاں ہر طرح کی طرزِ زندگی اختیار کرنے والوں کو جگہ مل سکے۔ یعنی وہاں بہترین سڑکیں بچھائی جائیں، مخصوص ریزیڈینشل احاطے ہوں جہاں لوگ آباد ہوسکیں، کمرشل احاطے ہوں جہاں لوگ اپنی کاروباری سرگرمیاں پوری کرسکیں اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے الگ سے جگہ مختص ہو۔ یہ ایک پلانڈ کمیونیٹی کہلاتی ہے جہاں انسان ایک معیاری زندگی جینے کے اہل ہوتا ہے۔

ٹاؤن پلاننگ اور ریئل اسٹیٹ

وہ شہری احاطے جہاں ڈیویلپمنٹ ایک پلان کے تحت کی جاتی ہے، وہاں ریئل اسٹیٹ کی قیمتیں ہمیشہ بڑھتی رہتی ہیں۔ گھر خریدنے اور بیچنے پر ایک بہتر ریٹرن آن انویسٹمنٹ کی اُمید ہوتی ہے۔ لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ پلان کے تحت بنائے گئے ٹاؤنز اور شہروں میں ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔ لوگ وہاں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور معاشرے میں اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اُن کا طرزِ زندگی باقیوں سے بہتر ہے۔ اس کے برعکس اگر شہر بغیر کسی پلاننگ کے تحت بنائے جائیں تو مجاز اتھارٹی کو لوگوں کے لیے ایک بہتر طرزِ زندگی اور سہولیات زندگی کی فراہمی نسبتاً مشکل ہوجایا کرتی ہیں۔

ٹاؤن پلاننگ اور ماحولیات

قدرتی آفات کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اکثر قدرتی آفات بغیر کسی پلان کے تحت بنائے گئے علاقوں اور ایک سطحی پلان کے تحت بنائے گئے شہروں کا پول کھول دیا کرتے ہیں۔ گزشتہ سال مون سون کے موسم میں کراچی کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہ کرنے کے بہت نقصانات سامنے آئے۔ جو شہر ایک پلان کے تحت بنائے جائیں، وہاں قدرتی آفات کا مقابلہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔

نیشنل اربن پالیسی، وقت کی اہم ضرورت

اگر ہمارے پاس ایک مربوط اور متحرک اربن پالیسی ہوتی اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے حکومت نے لوکل انتظامیہ تشکیل دی ہوتی تو زمینوں کی تقسیم، مخلوط اراضی کے استعمال اور شہری پھیلاؤ، ماس ٹرانزٹ، سستی رہائش، انفراسٹرکچر، روزگار اور افرادی قوت کی مہارتوں کے بہتر استعمال سے آج ہم ایک بہتر پوزیشن میں ہوتے، تاہم یہ کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں کہ آج ہم بہت بہتر صورتِ حال میں نہیں ہیں۔

یہ نیشنل اربن پالیسی کے فقدان کا ثمر ہے کہ بڑے شہروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہتر سہولیات زندگی والے مقامات پر لوگوں کا بے ہنگم رش ہے جبکہ پسماندہ طبقے دور دراز علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

شہری پالیسی سے ہم ان باتوں پر غور کر سکتے ہیں کہ سرکاری اراضی کو کیسے بہتر انداز میں استعمال کیا جائے اور پسماندہ گروہوں کے لئے کون سی جگہ مختص ہو۔ مربوط اربن پالیسی ہو تو ہاؤسنگ فنانس تک آسان رسائی، منصوبہ بندی، زوننگ کے ضوابط، ترقیاتی معیار ، اراضی کی رجسٹریشن/منتقلی کے طریقہ کار، پراپرٹی ٹیکس، ٹیکس کے قوانین سمیت معتدد مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس پالیسی سے شہری انفراسٹرکچر، اداروں کی اصلاح اور استحکام کی فوری ضرورت کو بھی حل کیا جاسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.