fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

مہنگائی میں مختصر مگر تمام بنیادی آسائشوں سے مزین رہائشی یونٹس کا بڑھتا رحجان

دنیا میں گزشتہ کچھ برسوں کے دوران مائیکرو (انتہائی چھوٹے) گھروں کی تعمیر کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مائیکرو گھروں کے رجحان میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ریئل اسٹیٹ کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ہیں، تاہم اس کی ایک اور وجہ دنیا کے کئی ملکوں میں جگہ کی کمی بھی ہے۔ ہانگ کانگ سے لے کر امریکا اور یورپ تک تعمیر کیے جانے والے یہ چھوٹے گھر صرف اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ آپ ان میں بمشکل چل پھر سکتے ہیں، تاہم ان میں رہنے کے لیے سارے لوازمات موجود ہوتے ہیں، جیسے بیڈ روم، ٹوائلٹ، کچن اور بیٹھنے کے لیے ایک صوفے کی جگہ وغیرہ۔

پاکستان کی طرح، دنیا کے کئی ملکوں میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں،جو اپنا گھر خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ معاشی رجحانات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ملکوں میں چھوٹے گھروں کی طلب میں اضافے کی وجہ وہاں گھروں کے کرایوں کا بہت زیادہ بڑھ جانا ہے جبکہ قیمتوں میں بہت زیاداضافے کے باعث مارگیج کی قسط بھی ماہانہ اخراجات پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالتی ہے۔ امریکا کے بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق، اکثر امریکی خاندانوں کے ماہانہ بجٹ میں سب سے بڑا حصہ ہاؤسنگ کی لاگت کاہے، جوکہ 33فی صد ہے۔

یہ ماہانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہے، جس کے بعد دیگر ضروریات کے لیے ناکافی رقم بچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سروے کے مطابق 52فی صد امریکیوں کو گزشتہ تین برسوں کے دوران، ہاؤسنگ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑی قربانی دینا پڑی۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ 52فی صد امریکی اپنے ہاؤسنگ کے مکمل اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسے میں ان کے پاس دو راستے بچتے ہیں: یا تو وہ کسی مضافاتی علاقے کی طرف منتقل ہوجائیں یا پھر اپنے لیے چھوٹے گھر کا انتخاب کرلیں۔

ہانگ کانگ اور یورپ میں جہاں یہ چھوٹے گھر، بحری جہاز کے کنٹینر میں بنائے جاتے ہیں، جو کافی سستے بن جاتے ہیں، تو کئی لوگ یہ گھر اپنے ذاتی تجربے اور دیگر وجوہات کے باعث بھی تعمیر کرواتے ہیں۔ ان لوگوں کے مائیکرو گھر اس قدر پرتعیش اور آسائشوں سے بھرپور ہوتے ہیں کہ ان کی فی فٹ تعمیراتی لاگت ایک عمومی گھر کے مقابلے میں دُگنی ہوتی ہے۔

مہنگائی میں مختصر مگر تمام بنیادی آسائشوں سے مزین رہائشی یونٹس کا بڑھتا رحجان

بڑھتے رجحان کی وجوہات؟

مائیکرو گھروں کے بڑھتے رجحان کی وجوہات زیادہ تر معاشی ہوتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ امریکا میں ایک عمومی گھر کی اوسط قیمت پانچ لاکھ ڈالر جبکہ کئی ریاستوں میں ساڑھے سات لاکھ ڈالر تک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کئی ریاستوں میں کئی لوگوں کے لیے اپنا گھر خریدنا قوتِ خرید سے باہر ہوجاتا ہے۔ مائیکرو گھر اس مسئلے کا حل فراہم کرتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق، امریکا میں توانائی دوست مائیکرو گھر ہر عمر، آمدنی اور لائف اسٹائل کی ترجیحات رکھنے والے افراد کے لیے دستیاب ہیں۔ امریکا میں توانائی دوست پری فیبریکیٹڈ گھروں کی مارکیٹ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کئی امریکی بڑے رقبے والے گھر کے بجائے ایفیشنسی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مائیکرو گھروں کے رجحان کے پسِ پشت، سماجی وجوہات بھی کارفرما ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران، خاندانی اقدار بھی بتدریج بدل گئی ہیں۔ 1960ء کی دہائی میں کئی خاندان ’’سنگل یونٹ‘‘ کے طور پر رہتے تھے اور اس کے لیے بلاشبہ بڑے گھر کی ضرورت ہوتی تھی۔

آج کے دور میں، جب ہم ایک خاندان کی بات کرتے ہیں تو تصور میں والدین اور ان کے چھوٹے بچے آتے ہیں۔ آج کے امریکا میں، بہت ہی کم خاندان ایسے ہیں، جہاں ایک ہی خاندان کی تین یا چار نسلیں ایک چھت تلے رہتی ہوں۔ 2014ء میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، مغربی نصف کرّہ (کرّہ ارض کا وہ حصہ جس میں شمالی اور جنوبی امریکا کے براعظم اور ملے ہوئے سمندر واقع ہیں) میں ایک گھر میں اوسطاً تین سے کم افراد رہائش پذیر تھے۔ ایسی فیملی کے لیے عموماً دو بیڈ روم سے بڑے گھر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مزید برآں، جب سے ’’ملینیل جنریشن‘‘ گھر خریدنے کی عمر میں آئی ہے، صورتِ حال مزید بدل گئی ہے۔ جب گھروں کی بات آتی ہے تو اس طبقے کے نوجوانوں کی ضروریات بالکل مختلف ہوجاتی ہیں۔

امریکا میں ملینیل نوجوانوں سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق،یہ نوجوان مائیکرو گھر صرف اور صرف ایک ہی وجہ سے خریدرہے ہیں: لوکیشن، لوکیشن، لوکیشن۔ خصوصاً، ایک مخصوص بجٹ پر رہنے والے ملینیلز کہیں دور بڑے گھر میں رہنے کے بجائے، بڑے شہروں کے ثقافتی مراکز کے قریب چھوٹے گھر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ امریکا کے رہائشی مراکز اب شہری مراکز میں مرتکز ہورہے ہیں اور امریکا کی وسط مغربی ریاستوں کو ٹیکنالوجی کے شعبہ میں کام کرنے والے ہنرمند نوجوانوں کو اپنے پاس رکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

چھوٹے گھروں کے انتخاب میں ماحولیاتی وجوہات بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال ماحولیاتی تنزلی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایسے میں کئی مینوفیکچررز اور صارفین، زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے، قدرتی وسائل کے استعمال کو کم سے کم رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ چھوٹے گھروں میں رہنا ان کے اس عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔

امریکی حکومت نے 2008ء میں نئے گھروں کے لیے زیرو انرجی ریڈی معیار کا اعلان کیا تھا، جو انرجی اسٹار پروگرام کا حصہ ہے۔ فوربز کےمطابق آج کے دور میں ایفیشنٹ، ہوم ڈیزائن کا سب سے مؤثر معیار ہے۔ امریکا کے 14ہزار گھر معیاراختیار کرچکے ہیں اور اندازہ ہے کہ اس سے امریکا کو سالانہ کئی ملین ڈالرز کی بچت ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.