fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

ماحول دوست تعمیرات کی بڑھتی اہمیت

پاکستان دنیا کے اُن دس ممالک میں شامل ہے جن پر ماحولیاتی تبدیلی سب سے زیادہ اثر انداز ہورہی ہے۔ بروقت اقدامات نہ لینے پر یہ اثر وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا چلا جائیگا۔ دنیا کو مجموعی طور پر ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک و مضر اثرات کا سامنا ہے اور ایسے میں ہر ملک اپنے تئیں ان اثرات سے نمٹنے کا پلان رکھتا ہے۔ کنسٹرکشن سیکٹر کسی بھی مُلک کے معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا ہے۔ اس صنعت کے چلنے کو ایک خوشحال مُلکی معیشت سے تشبیہ دی جاتی ہے لہٰذا کسی بھی ملک کو اگر اپنے ماحول کی حفاظت کرنی ہے تو اُسے سب سے پہلے تعمیراتی صنعت کو ماحول دوست بنانا ہوگا۔ یہ اقدام جتنا جلدی اور موثر انداز سے لے لیا جائے اُتنا اچھا ہے کیونکہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں ماحول دوست تعمیرات اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔

ماحول دوست تعمیرات کا مطلب

ماحول دوست تعمیرات کا مطلب ایسے تعمیراتی مواد کا استعمال ہے جس سے ماحول کی صحت پر کوئی مضر اثر نہ پڑے۔ ماحول دوست تعمیرات سے ایک بڑے عرصے تک صرف اس لیے منہ موڑا جاتا رہا کہ اِن کی لاگت باقی تعمیرات کی نسبت زیادہ تھی۔ تاہم کچھ اقدامات انسان پر قدرت کی طرف سے واجب کردیئے جاتے ہیں اور ماحول کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کرنے کا معاملہ بھی آخر کار ایک حد تک جا پہنچا اور پھر گرین کوور کی بحالی یعنی ماحول کا خیال رکھنا ضروری ٹھہرا۔ سسٹینیبل کنسٹرکشن کا مطلب ری نیوایبل اور ری سائیکل شدہ مٹیریل سے نئے اسٹرکچرز کا قیام ہے جس کا بنیادی مقصد ماحول پر تعمیرات کے مہلک اثرات کو کم کرنا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے سسٹینیبل کنسٹرکشن کا سفر بلڈنگ کی تعمیر ہونے پر تمام نہیں ہوتا بلکہ جب تک وہ عمارت زمین پر موجود ہے اُس سے ماحول کو فائدہ ہوتا رہے، یہ بھی ماحول دوست تعمیر کے اہم ترین جُزویات میں سے ایک ہے۔ مطلب یہ کہ بلڈنگ کے ڈیزائن میں ایکو فرینڈلی ایلیمنٹس کا استعمال یقینی بنایا جائے کہ جس میں بہترین انسولیشن، سولر پینلز کا استعمال اور انرجی کے بچاؤ پر خصوصی توجہ دی گئی ہو۔

کچھ حقائق

کنسٹرکشن سیکٹر کے ماحول پر اثر سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تعمیرات میں جس قدر ہیوی مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے، صرف وہی عالمی توانائی کے استعمال کا 36 فیصد اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کا 40 فیصد حصہ بنتا ہے۔ اسی طرح سے تعمیراتی سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا، کنکریٹ کی تیاری اور استعمال شدہ اشیاء اور تعمیراتی فضلے کو ڈمپ کرنا، یہ سب وہ معاملات ہیں جو بہرحال ماحول پر ایک مہلک اثر رکھتے ہیں۔

ایکو فرینڈلی کنسٹرکشن کی خصوصیات

ایکو فرینڈلی کنسٹرکشن میں توانائی اور آبی وسائل کا بچاؤ یقینی بنایا جاتا ہے، اِن کا استعمال ایک ایسے میکنزم کے ذریعے کیا جاتا ہے کہ جن سے ان کا بے دریغ استعمال یعنی ضیاں کسی صورت نہ ہو۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ کوئی بھی ایکو فرینڈلی کنسٹرکشن طویل المدتی بنیادوں پر عام تعمیر سے 80 فیصد سستی پڑتی ہے تاہم تعمیر بہر حال ایک مہنگا مرحلہ ہے۔ ماحول دوست عمارات میں توانائی کے وہ ذرائع جو ایک حد رکھتے ہیں، اُن پر انحصار کم کردیا جاتا ہے تاہم لا محدود ریسورسز مثلاً شمسی توانائی پر انحصار بڑھا دیا جاتا ہے۔ توانائی کے اُن ذرائع کو بروئے کار لایا جاتا ہے کہ جن کا استعمال ماحول یا یہاں بسنے والے انسانوں پر گراں نہ گزرے۔ ماحول دوست تعمیرات میں سبز ایلیمنٹ کا بخوبی خیال رکھا جاتا ہے جس سے انسانی جسم اور مینٹل ہیلتھ پر ایک اچھا اثر پڑتا ہے۔ وہ لوگ جو کہ ماحول دوست عمارات میں رہتے ہیں، اُن کی صحت دیگر لوگوں کی نسبت اچھی ہوتی ہے۔ ایکو فرینڈلی کنسٹرکشن میں پلاسٹک، کوئلے اور دیگر ایسی اشیاء کا استعمال نہیں کیا جاتا جن كا انسانی صحت پر ایک مضر اثر ہو۔

آبی وسائل پر خصوصی توجہ

جہاں آبی وسائل کے استعمال کی بات کی گئی، وہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رین واٹر ایک انمول قدرتی ریسورس ہے اور ایکو فرینڈلی کنسٹرکشن میں اس کے استعمال اور بچاؤ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ پانی کرہ ارض کا 71 فیصد حصہ بناتا ہے اور اس 71 فیصد کا صرف تین فیصد فریش واٹر ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ وہ پانی جو ہمارے پینے کے قابل ہو اور جس سے فصل تیار کی جاسکے، وہ پورے ایکو سسٹم کا محض تین فیصد حصہ بنتا ہے۔ حیرت کی بات مگر یہ بھی ہے کہ اُس تین فیصد کا اڑھائی فیصد دستیاب ہی نہیں یعنی وہ گلیشیرز اور آئس کیپس میں بند ہے جبکہ کچھ زیرِ زمین موجود ہے اور کچھ ہوا کی نمی میں قید ہے۔ اس بات کو سمجھا جائے تو دنیا کے سات ارب انسانوں کیلیے محض نصف فیصد پانی ہے جس کو ہم بڑے ہی کھلے دل کے ساتھ ضایع کررہے ہیں اور گندگی کی وجہ سے اِس محدود وسیلے کی صحت کے درپے ہیں۔ یوں ایکو فرینڈلی تعمیرات میں رین واٹر ہارویسٹنگ اور پانی کے بچاؤ کا سسٹم ضروری ہی نہیں، انتہائی ضروری ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.