fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

كووڈ-19 کے تعمیرات پر اثرات

کورونا وائرس کے پیشِ نظر لاگو شدہ لاک ڈاؤن میں جیسے جیسے نرمی آرہی ہے، ویسے ویسے تعمیراتی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اس انتباہ کے بعد کہ کورونا وائرس شاید ہمیشہ رہے، یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اب تعمیراتی سائٹس پہلے سے بہت مختلف منظر پیش کریں گی اور یہ اثر دیرپا رہے گا۔

 

سماجی فاصلہ اور کم افرادی قوت

شعبہ صحت اور تعمیراتی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کورونا کے پھیلاؤ کے دوران تعمیراتی سائٹس پر پہلے کے مقابلے میں اب صرف 60 فیصد مزدور اور افرادی قوت نظر آئے گی۔

 

 

جو افرادی قوت جاۓ تعمیر پر موجود ہوگی اُنہیں بھی سماجی فاصلے کو اختیار کرنے سمیت تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ تعمیراتی عمل تھوڑا سست روی کا شکار ہوگا یعنی منصوبے تکمیل میں تھوڑا وقت پہلے کے مقابلے میں زیادہ لیں گے۔

 

کووڈ 19 اور امیگریشن کی سخت شرائط

کووڈ 19 کے بعد امیگریشن کی شرائط سخت ہوچکی ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ممالک اپنے تعمیراتی عمل کے لیے غیر ملکیوں کی مزدوری اور قوت پر زیادہ انحصار کرتے تھے اب اُنھیں افرادی قوت میں کمی کا سامنا کرنا پڑیگا اور اُن کے پراجیکٹس سُست روی کا شکار ہوں گے۔

 

 

ایک تبدیلی تو یہ بھی آئے گی کہ کمیونیٹی لیونگ کا رجحان جو کہ مسلسل پذیرائی کا شکار تھا اب اُس میں کمی واقع ہوگی۔ لوگ شہر کا رخ بہتر سہولیات اور معیاری زندگی کے لیے کرتے ہیں مگر اب اُنھیں شہر کے اندر ایک ہجوم کا احساس ہوگا اور وبائی امراض سے دور رہنے کے لیے اُن کے اندر شہر سے کنارہ کش ہونے کی سوچ پروان چڑھے گی۔ اس کا بھی تعمیرات پر گہرا اثر ہوگا جس سے خدشہ ہے کہ تعمیراتی مٹیریل مہنگا ہو اور مزدوری کی لاگت میں بھی اضافہ ہو۔

 

پری فیبریکٹڈ گھروں کا رواج

تعمیراتی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ دور پری فیبریکٹڈ گھروں کا ہے۔ یعنی گھر کے مختلف حصوں کو جیسے کہ چھتوں اور دیواروں کو فیکٹری میں بنا دیا جاتا ہے اور اسمبلنگ کا عمل سائٹ پر کیا جاتا ہے۔ یوں تیز اور سستے گھر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

 

 

کورونا کے بعد تعمیراتی عمل میں بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ یعنی بی آئی ایم کا استعمال بھی بڑھ چکا ہے۔ گو کہ یہ عمل، جسے تعمیرات کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب پہلا قدم کہا جاتا ہے، کافی عرصے سے زیرِ استعمال ہے مگر کورونا کے باعث چونکہ لوگ ذاتی حیثیت میں ملنے سے قاصر تھے، اس کا استعمال بڑھا ہے اور بڑھے گا۔ بی آئی ایم کا مطلب یہ ہے کہ بلڈنگ پر ڈیجیٹل اور ورچوئل ماحول میں پیشرفت جاری رہتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ تعمیرات کا ایک اشتراکی عمل ہے جس کے مطابق تعمیراتی منصوبے سے جُڑے تمام اسٹیک ہولڈرز اور پروفیشنلز کے ساتھ ریئل ٹائم اعداد و شمار شیئر کیے جاتے ہیں اور تعمیر تیز تر ممکن ہو پاتی ہے۔

 

تعمیرات، محفوظ اور دیرپا

کورونا کے بعد چونکہ تعمیراتی صنعت میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ چُکا ہے اِس لئے کہا جا سکتا ہے کہ تعمیرات محفوظ اور دیرپا ہوں گی۔

 

 

ٹیکنالوجی کے باعث روایتی انداز میں بنائے جانے والے گھروں میں جو عیب ہوتے ہیں، اُن سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ تعمیراتی سائٹ کے برعکس فیکٹری میں ماحول زیادہ محفوظ ہوتا ہے اور کووڈ کے باعث تمام تر طے شدہ ایس او پیز پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔

 

ماحول دوست تعمیر سازی اور ٹیکنالوجی کا استعمال

تعمیرات میں اگر عمومی روایت کی بات کر لی جائے تو ہم کاریگر کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی منصوبے کا اپنے انداز میں کوئی بھی ٹائم لائن دے دیتا ہے اور ہم اُس کو ماننے کے مجاز ہوتے ہیں۔ کورونا کے بعد کی صورتِ حال میں اسمارٹ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال اور پری فیب کی روایت پکی ہوگئی ہے اور اب تعمیرات کو آدھے وقت میں مکمل کیا جا سکے گا۔

 

 

کورونا کی دوسری لہر کے باعث پری فیب کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ کورونا کے باعث ایک فرق یہ بھی پڑا کہ لوگوں نے اپنی صحت کو سنجیدگی سے لینا شروع کردیا۔ اس کا تعمیرات پر یہ اثر ہوگا کہ صنعتیں زمہ داری کا مظاہرہ کریں گی اور تعمیرات میں پائیدار طریقوں کو اپنائیں گی۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ماحول میں 35 سے 45 فیصد زہریلے گیسوں کا اخراج تعمیراتی صنعت کا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اہداف کے مطابق 2030 تک ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے زہریلے گیسوں میں کمی لانا ضروری ہے۔ اس ضمن میں بی آئی ایم اور پری فیب جیسے کئی طریقے مدد کو آئیں گے۔

 

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.