fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

قانونی وارث: جائیداد کی وراثت منتقل ہونے میں پائی جانے والی پیچیدگیاں

وارث، ایک ایسا لفظ جو خود ہی بیان کرتا ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے کوئی اثاثہ اپنے آباء و اجداد سے ورثے میں لیا ہو یا اس کو ملا ہو۔

پاکستان میں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی شخص کے وفات پا جانے کے بعد جائیداد کے جھگڑے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ایسا ہونا ایک عام بات ہے۔ قوانین تو موجود ہیں لیکن اُن کا مکمل اطلاق ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں خواتین کو اکثر جائیداد کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ مرحوم کے ورثاء جائیداد کو قانونی راستے سے تقسیم کرنے کے بجائے خود ہی آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ آج ہم بتائیں گے کہ کیسے قوانین بغیر کسی تفریق کے جائیداد کے حق کا تحفظ کرتے ہیں اور یہ قوانین کس حد تک جامع اور مؤثر ہیں۔

 

کچھ اہم قانونی نکات

پاکستان میں وراثتی اثاثوں کے حوالے سے کوئی الگ سے قانون تو نہیں لیکن دو ایسے قوانین موجود ہیں جو وراثتی حقوق کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ان قوانین میں ویسٹ پاکستان مسلم پرسنل لاء (شریعت ایکٹ 1962) اور مسلم فیملی لاء آرڈینینس 1961 شامل ہیں۔

وراثتی اثاثے دو طرح کے ہوتے ہیں، جائیداد یعنی کہ زمین، پلاٹ، گھر، دکانیں، پلازہ وغیرہ اور دوسرا زیورات اور کیش وغیرہ۔

ان قوانین کے تحت فوت ہونے والے شخص کی جائیداد اس کے ورثاء میں بغیر کسی تفریق قانون کے تحت تقسیم کی جائے گی۔ ہم آج کے بلاگ میں بالخصوص جائیداد کے وراثتی حقوق پر قارئین کی معلومات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں جائیداد کی وراثت حاصل کرنے کے لئے کیا قانونی ضروریات ہیں۔

 

وراثت نامہ کون سی دستاویز ہے اور کتنی ضروری ہے؟

وراثت نامہ وہ دستاویز ہے جو عدالت کی جانب سے جاری کی جاتی ہے۔ کوئی بھی شخص وراثت نامہ کے بغیر جائیداد کا قانونی وارث نہیں بن سکتا۔ یہ سول کورٹ کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ وراثت نامہ حاصل کرنے کے لئے 3 چیزوں کی ضرورت ہے:

مرحوم کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ
تمام ورثاء کے شناختی کارڈ کی کاپی
اس پراپرٹی کی دستاویزات جو پیچھے رہ گئی ہو

ان تمام دستاویزات کا انتظام کرنے کے بعد آپ کو ایک وکیل کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی۔ وہ وکیل دستاویزات تیار کر کے عدالت میں کیس دائر کرے گا۔ کیس کی پہلی سماعت میں عدالت اخبارات کے ذریعے ایک نوٹس جاری کرے گی۔ اس نوٹس کے مندرجات میں یہ بات واضح کی جائے گی کہ مرحوم اگر کسی کا قرضدار ہے تو وہ سامنے آئے یا پھر اگر اس جائیداد کا کوئی اور وارث بھی ہے تو وہ بھی سامنے آئے۔ کیس کی دوسری سماعت میں عدالت ورثاء میں سے کسی ایک وارث کو ایک عدد آزاد گواہ کے ساتھ بلائے گی اور ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔ مکمل عدالتی کاروائی کے بعد تیسری سماعت میں ورثاء کو وراثت نامہ جاری کیا جائے گا۔ اب اس وراثت نامہ کے تحت ورثاء قانونی طور پر اس بات کے اہل ہیں کہ وہ جائیداد کا انتقال کر سکتے ہیں۔

وصیت نامہ کیا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

قانون کسی بھی شخص کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ وصیت کے طور پر کسی کے نام کر سکے۔ اس قانون کے تحت وصیت میں زیادہ سے زیادہ کُل جائیداد کا ایک تہائی حصہ کسی کے نام کیا جا سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کی جائیداد اگر وصیت میں لکھی گئی ہو تو اس وصیت کو ورثاء عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کوئی بھی حواس باختہ شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کسی دوسرے شخص کو تحفے کے طور پر منتقل کر سکتا ہے اور اس عمل کو کوئی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کر سکتا۔

جائیداد میں خواتین کے حقوق کا قانونی تحفظ

پاکستان میں جائیداد کی منتقلی کے وقت خواتین کو نظر انداز کیا جانا اور ان سے ان کا حق چھیننا کوئی نئی بات نہیں۔ یہ روایات دورِ قدیم سے چلی آرہی ہیں جس کی وجہ سے عورت ہمیشہ اپنے حق سے محروم رہی ہے۔ اس امر میں قانون خواتین کو بھرپور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دی انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی بل 2019 (سیکشن سی) کے تحت آئین خواتین کو جائیداد کی ملکیت کا وارث بننے کا بھرپور حق دیتا ہے۔

پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 498 اے کے تحت اگر کوئی شخص کسی عورت کو اس کا جائز قانونی وراثت کا حق چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے تو اس کو آئین کے تحت کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے یا دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر عدالت چاہے تو یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جا سکتی ہیں۔

آئینِ پاکستان میں وراثتی حقوق کے لئے قوانین موجود ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قوانین پر عملدرآمد بھی کیا اور کروایا جائے۔ پاکستان میں آج بھی دیہات میں بالخصوص خواتین کو جائیداد کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ شہروں میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ قانونی معاملات سے لا علمی کے باعث اس حق کا بھرپور استعمال نہیں کیا جاتا اور وہ اپنے حق سے محروم رہتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ قانون مرد اور عورت دونوں کے وراثتی حقوق کا بھرپور تحفظ کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قوانین کے عوام کو ادراک کے لئے ایک آگاہی مہم کی جانی چاہئے اور غیر قانونی جائیداد کی منتقلی کے واقعات روکنے کے لئے عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہئے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

The post قانونی وارث: جائیداد کی وراثت منتقل ہونے میں پائی جانے والی پیچیدگیاں appeared first on Graana.com Blog.

Sorry, the comment form is closed at this time.