fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

سورج کی حرارت سے پیدا ہونے والی بجلی سے متعلق 5 افسانوی روایات

عالمی سطح پر زہریلی گیسوں (گرین ہاؤس گیسز) کے اخراج میں ایک تہائی حصہ توانائی کے شعبہ کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ توانائی کی پیداوار کے لیے صاف  اور ماحول دوست وسائل کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے مسئلے سے نمٹا جاسکے۔

توانائی کے عالمی ادارے نے بجلی کے پیداواری وسائل میں سورج کی حرارت سے پیدا ہونے والی بجلی جسے شمسی توانائی بھی کہا جاتا ہے کو ‘برقی وسائل کا بادشاہ’ کے خطاب سے تعبیر کیا ہے۔ ورلڈ انرجی آؤٹ لک 2020ء رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر دستیاب وسائل، کم ہوتی ہوئی لاگت اور دنیا کے 30 سے زائد ملکوں میں پالیسی سپورٹ کے باعث 2022ء کے بعد قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں نئے ریکارڈ بننے کی توقع ہے۔

دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع کے بڑھتے رحجان کے ساتھ ساتھ ان وسائل کے حوالے سے مختلف مفروضے بھی جنم لے چکے ہیں جن کی وجہ سے ایک عام صارف یہ سوچ کر ذہنی کشمکش میں مبتلا ہے کہ آیا یہ برقی وسائل توقعات کے مطابق قابل استعمال ہیں بھی یا نہیں۔۔۔

سورج کی حرارت سے پیدا ہونے والی بجلی جسے شمسی توانائی بھی کہا جاتا ہے وہ بھی مختلف قسم کی افسانوی روایات سے مزین عام انسان کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔

آئیے! آپ کو شمسی توانائی سے متعلق افسانوی روایات میں سے چند ایک سے روشناس کراتے ہیں۔

سورج کی حرارت سے پیدا ہونے والی بجلی  کیا استعمال کے لیے ناکافی ہے؟

سورج کی حرارت سے پیدا ہونے والی بجلی یعنی شمسی توانائی بجلی کی فراہمی کا ایک اہم وسیلہ ہے اور پوری دنیا میں مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کے ایک مربوط نظام کا حصہ ہے۔ سال 2020 کے دوران عالمی سطح پر شمسی توانائی سے متعلق تنصیبی امور میں 52 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ اس صنعت میں مزید پھیلاؤ کا رجحان ابھی بھی موجود ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد، پشاور، گجرانوالہ وغیرہ میں رہائشی منصوبوں میں گھروں کی تعمیر کے ساتھ شمسی توانائی اور قابل تجدید توانائی کے دوسرے  وسائل کو اس قدر کامیابی کے ساتھ گرڈ میں شامل کر لیا ہے کہ اب 23 فیصد سے زائد بجلی  قابل تجدید وسائل سے حاصل کی جا رہی ہے۔

کیا شمسی توانائی کے استعمال کی لاگت صارفین کے لیے ناقابل برداشت ہے؟

ایسا بالکل نہیں ہے اور یقین کر لیجئیے کہ اب شمسی توانائی عام صارف کی استطاعت میں ہے۔  جس کی ایک بنیادی وجہ شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال اور طلب میں اضافے کے باعث اس کے ایکویپمنٹ کی قیمت میں بتدریج کمی ہے۔ پاکستان شمسی توانائی کے حصول کی لاگت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے  کہ مذکورہ وسائل کی لاگت میں کمی کی وجہ سے ملک بھر میں شمسی توانائی کا استعمال ناقابل یقین حد تک بڑھ چکا ہے۔

کیا یہ سچ ہے کہ شمسی توانای کا استعمال سورج کی چمک سے جڑا ہوا ہے؟

اس افسانوی روایت میں بھی ذرہ برابر صداقت نہیں ہے کیونکہ شمسی توانائی ایسے وقت میں بھی توانائی کا قابل اعتماد  وسیلہ ہوتی ہے جب بادل چھائے ہوتے ہیں۔  سردی کے موسم میں اگر تھوڑی سی دھوپ بھی ہو تو کام چل جاتا ہے۔ شمسی توانائی سے گھروں اور کاروباری اداروں میں بنائی جانے والی  بجلی کو گرڈ کو منتقل کیا جاسکتا ہے، جس کے بدلے میں صارفین کو توانائی کے کریڈٹ  ملتے  ہیں جنہیں صارفین سورج ڈوبنے کے بعد بجلی کی صورت میں استعمال کرتے ہیں۔ پھر گرڈ سے ملنے والی بجلی کو ذخیرہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں توانائی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھتی جارہی ہے۔

شمسی توانائی کے حصول میں استعمال ہونے والے پینلز کی دیکھ بھال کیا ایک مشکل عمل ہے؟

یقین کیجئیے کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان پینلوں کا کسی بھی قسم کا حصہ ایسا نہیں جو متحرک ہو اور جس کی دیکھ بھال اور مرمت کی ضرورت پڑتی ہو۔ شمسی پینل دیرپا ہوتے ہیں۔ انہیں ژالہ باری سے بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ پینلوں کی دیکھ بھال کی ضرورت اس قدر کم ہوتی ہے اور یہ اتنے قابل اعتماد ہوتے ہیں کہ بیشترکمپنیاں ان کی مضبوطی کی 20 سے 30 سال تک کی ضمانت دیتی ہیں۔

کیا شمسی توانائی آمدن کے اعتبار سے ایک منافع بخش ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے؟

شمسی توانائی اب لاگت میں کوئلےاور توانائی کے دیگر آلودہ وسائل پر اٹھنے والی لاگت کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے شمسی توانائی کی نصب شدہ گنجائش میں 2012 کے مقابلے میں 2020 کے دوران  52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ شمسی توانائی کی صنعتوں کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کا استعمال ایک ریکارڈ رفتار کے ساتھ رحجان پا رہا ہے۔ شمسی توانائی کے استعمال کے دوران پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں آپ کو بجلی خریدنے کی بھی پیشکش کر رہی ہیں یعنی نیٹ میٹرنگ کے ذریعے آپ اضافی بجلی متعلقہ تقسیم کار کمپنی کو فروخت کرتے ہوئے مناسب آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.