fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

زیرِ تعمیر منصوبوں کیلئے بینک فنانسنگ کی اجازت

گزشتہ دنوں راولپنڈی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں یہ پڑھنے کو ملا کہ مُلکی تعمیراتی صنعت میں گزشتہ تین سالوں کے اندر دس گنا تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات اعداد و شمار کی گہرائیوں میں جائے بغیر بھی سچ ہی لگتی ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کا معاشی پہیہ تعمیراتی صنعت کے ذریعے چلانے اور رواں رکھنے کا عزم کررکھا ہے۔

معاشی ایکٹیویٹی کی جنریشن تعمیراتی صنعت کے فروغ سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ حکومت نے تعمیراتی صنعت کیلئے جاری کردہ مراعات سے اس امر کو یقینی بنایا۔ ڈویلپرز اور کنٹریکٹرز کیلئے مراعات اور اصلاحات سے مارکیٹ میں کافی تیزی کا رجحان ہے۔

یہ بات مگر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ کی بیشتر ڈیمانڈ مڈل کلاس گروپ سے آتی ہے جو کہ واقعتاً تعمیرات کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ چونکہ آجکل ہر طرف ترقیاتی منصوبوں کی ایک بھرمار ہے، ایسے میں سیمنٹ، سٹیل اور سینیٹری ویئر جیسے تعمیراتی سامان کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایسے میں اسپیشل انسٹرومینٹس اور ایسکرو اکاؤنٹس کے ذریعے زیرِ تعمیر منصوبوں کیلئے ہاؤسنگ فنانس کا اعلان ایک انتہائی اہم اقدام ہے۔

انڈر کنسٹرکشن پراجیکٹس میں بینک فنانسنگ کا حصول

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے انڈر کنسٹرکشن ریزیڈینشل پراجیکٹس میں بینک فنانسنگ حاصل کرنے کیلئے خریداروں کی سہولت کو یقینی بنانے کیلئے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے بینکوں اور ڈی ایف آئیز کو گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں۔ مرکزی بینک کے اس قدم سے لوگ نہ صرف زیرِ تعمیر منصوبوں کیلئے آسان شرائط پر قرضے لے سکیں گے بلکہ اس سے بینکاری صنعت میں رسک فیکٹر ینی خطرات کم کرنے کا ایک ضروری فریم ورک بھی مہیا کردیا گیا ہے۔

فوائد

تفصیلات میں جانے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اب لوگوں کو زیرِ تعمیر پراجیکٹس میں پلاٹس کے حصول میں آسانی ہوگی، جو کہ ظاہری طور پر تعمیر شدہ منصوبوں سے قدرے کم لاگت کے ہیں۔ یوں یہ بات بھی مکمل وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ بینکوں کی جانب سے اب منصوبوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی جس سے اُن پراجیکٹس کی بروقت تکمیل یقینی ہوگی۔ علاوہ ازیں ہاؤسنگ یونٹس چونکہ نئے ہونگے تو خریداروں کو ابتدائی سالوں میں اُس کی بحالی اور مرمت کی قدرے کم لگتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔

تعمیراتی منصوبوں کی بہتات کی وجہ سے کنسٹرکشن کیلئے درکار مہنگا ہوگیا ہے۔ سٹیل، سمینٹ، ٹائلز اور فٹنگ ایکویوپمنٹ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق فلحال سیمنٹ سیکٹر کے پاس اُس کی پیداوار سے زیادہ آرڈرز موجود ہیں۔ جنوری 2021 میں گزشتہ سال یعنی جنوری 2020 کے مقابلے میں مقامی کھپت 16 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ایسے میں ہماری مارکیٹ، جو کہ ویسے بھی انویسٹر کے گرد گھومتی ہے، میں لوگ زمین میں ہی انویسٹ کررہے ہیں جبکہ منصوبوں کی کنسٹرکشن آہستگی یعنی تاخیر کا شکار ہے۔

ان تمام تر حقائق کے پیشِ نظر چونکہ انڈر کنسٹرکشن پراجیکٹس میں بینک فنانسنگ کی اجازت دیدی گئی ہے تو تعمیراتی صنعت میں مزید تیزی کا رجحان ہوگا۔ زیرِ تعمیر منصوبوں میں ہاؤسنگ فنانس کی سہولت سے بینک اب انڈر کنسٹرکشن پراجیکٹس کیلئے قرضے جاری کریں گے۔ یہ سہولت چونکہ اس سے قبل موجود نہیں تھی تو ہوم بائرز کے پاس کیپیٹل انویسٹمنٹس کی کمی کا معاملہ تھا۔ بلڈرز کو ادائیگی ایسکرو اکاؤنٹس سے کی جائیگی جس کی فروخت کنندہ تک رسائی منصوبوں کی تکمیل تک نہیں ہوگی۔

ہاؤسنگ فنانس کے لیے ریگولیٹری باڈی کا قیام

وفاقی حکومت نے حالیہ دنوں میں یہ بھی اعلان کیا کہ ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی تجویز زیرِ غور ہے۔ وزیرِ خزانہ شوکت فیاض ترین نے سسٹنیبل گروتھ کے لیے معاشی پلان سامنے رکھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ایک منظم ہاؤسنگ فنانس میکینیزم کے لیے قائم ہونے والی ریگولیٹری باڈی کا نام پاکستان ہاؤسنگ بینک رکھا جائیگا۔ آجکل اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ کی ریگولیشن کرتی ہے۔

اقتصادی ایڈوائزری کونسل کے ایک رکن عارف حبیب نے کہا کہ ہاؤسنگ فنانس کمپنیوں کا تعلق پرائیویٹ سیکٹر سے ہوگا اور حکومت کے اس قدم کا مقصد نجی سیکٹر کیلئے ایسا ماحول بنانا ہے جس سے وہ ہاؤسنگ فنانس کو ایک کاروبار کی طرح دیکھ سکے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ماضی قریب تک ایک بھی ہاؤسنگ فنانس کمپنی نہیں تھی تاہم ان سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے تین کمپنیوں کو لائسنسوں کا اجراء کیا ہے جو کہ ایک اہم ڈیویلپمنٹ ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ مائیکرو فنانس بینکس، فنڈ مینیجمنٹ کمپنیز اور انویسٹمنٹ بینکس متعدد ہاؤسنگ فنانس کمپنیز کا قیام عمل میں لائیں گے تاکہ ہاؤسنگ سیکٹر سے اچھے انداز میں فائدہ اُٹھایا جاسکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.