fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

ریئل اسٹیٹ منصوبوں میں بجلی کی بچت کیسے ممکن ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں کتنی ہی سائنسی ایجادات ایسی ہیں جن کا براہ راست انحصار بجلی پر ہے ۔یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ بنی نوعِ انسان کا پتھروں کے قدیمی دور سے موجودہ ترقی یافتہ دور تک کا سفر بجلی کی توانائی کا مرہون منت ہے۔

موجودہ دور کے تقاضوں کے مدِ نظر جدید ترین برقی آلات کا استعمال بھی ہماری زندگیوں میں بتدریج بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بلاشبہ بجلی کی توانائی کا استعمال بھی ہماری زندگیوں میں بڑھ گیا ہے۔ انفرادی سطح پر بجلی کی توانائی کا مناسب استعمال براہ راست اجتماعی سطح پر بجلی کی بلاتعطل ترسیل اور صارفین کی مالی مشکلات میں بتدریج کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

چند دہائی قبل تک شہری علاقوں میں بجلی سے چلنے والے پنکھے کو ایک آسائشی سہولت کے طور پر جانا جاتا تھا جو بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ اب انسان کی بنیادی ضروریات کا حصہ بن چکا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پنکھے کی جگہ ایئر کنڈیشنرز نے لے لی اور پھر بجلی کے بلوں میں اضافے کے پیش نظر مینوفیکرنگ کمپنیوں نے ایئر کنڈیشنرز کی دنیا میں انقلاب برپا کرتے ہوئے انورٹر ٹیکنالوجی متعارف کروا دی۔

اسی طرح پہلے بلب پھر ٹیوب لائٹ اور اب مارکیٹ میں ایل ای ڈی لائٹس دستیاب ہیں جو نا صرف طبیعت کو راحت بخش روشنی کی فراہمی بلکہ بجلی کی بچت میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

ریئل اسٹیٹ شعبے کے زیر انتظام جاری اور نئے تعمیراتی منصوبوں میں برقی آلات کاغیر ضروری استعمال ہمارے ماہانہ بجلی کے بلوں میں اضافے کی اہم وجہ ہے، کچھ طریقے آپ کے ماہانہ بجلی کے بلوں میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایک بین الاقوامی تحقیق میں بجلی کی بچت سے متعلق کچھ اہم رہنما اصول بتائے گئے ہیں جنھیں اپناتے ہوئے ہم برقی آلات کے استعمال کے دوران بجلی کی بچت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

بلاوجہ برقی آلات کے سوئچز ”آن” مت رکھیں

بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جب آپ ٹی وی، کمپیوٹر، مایکروویو اور دوسرے برقی آلات کو استعمال نہ کر رہے ہوں تو ان کا سوئچ آف کر دیجئے کیونکہ ”سٹینڈبائی“ حالت میں بھی یہ آلات بجلی صرف کرتے ہیں۔ اسی طرح جو آلات ریموٹ سے چلتے ہیں ان کا بھی سوئچ بند کر دیں۔ ریئل اسٹیٹ کے رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں اس بات کا خیال رکھیں کہ کمروں او ر دفاتر میں بلاضرورت لائٹ یا پنکھا نہ چل رہا ہو۔ اسی طرح جب آپ کمرے  یا دفتر سے باہر نکلیں تو بھی برقی آلات بند کر دیں۔ عام پنکھا تقریباً 120 واٹ کا ہوتا ہے، فالتو چلنے سے آپکے بل میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہو جاتا ہے۔ عام بلب یا ٹیوب لائٹ کے مقابلے میں انرجی سیور بہت کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ ابھی بھی عام بلب یا ٹیوب لائٹ استعمال کرتے ہیں تو انہیں فوراً تبدیل کیجئے۔

 کھانا پکانے کے خودکار نظام کا درست استعمال

ریئل اسٹیٹ شعبے کے زیر انتظام بلند و بالا رہائشی عمارتوں میں رہائش پذیر صارفین بجلی کی بچت میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق  جدید طرز پر رتعمیر شدہ  رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں کچن میں اوون کا استعمال عام پایا جاتا ہے۔ اوون میں کھانا پکاتے یا گرم کرتے وقت جتنی بار آپ اوون کا دروازہ کھولتے ہیں اتنی ہی بار اوون کا درجہ حرارت دس ڈگری تک کم ہو جاتا ہے جس سے کھانا پکنے کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور بجلی بھی زیادہ خرچ ہوتی ہے لہٰذا کیک بناتے وقت یا چرغہ روسٹ کرتے ہوئے اوون کا دروازہ بار بار مت کھولیں۔ اس کے علاوہ سال میں ایک مرتبہ اوون کے دروازے کی صفائی بھی بجلی کے استعمال میں کمی کا باعث ہے کیونکہ ایک صاف ستھرا اوون گندے اوون کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔

ضرورت کے مطابق ایئر کنڈیشنر کا استعمال

گھر میں مجموعی طور پر جتنی بجلی خرچ ہوتی ہے اس میں سے بیڈ روم اور دفاتر  میں صرف کی جانے والی بجلی کا حصہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ ایئر کنڈیشنر کو 26 ڈگری سینٹی گریڈ پر چلائیں۔ کمرے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کھڑکیوں اور دروازے کو اچھی طرح بند رکھیں۔ صبح اُٹھنے سے دو گھنٹے پہلے ایئر کنڈیشنر کو بند کرکے پنکھے کی رفتار کم کردیں۔  اس طرح آپ کا کمرہ دو، تین گھنٹوں تک ٹھنڈا رہے گا۔

قدرتی روشنی کے استعمال کو زندگی کا حصہ بنائیں

گھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کمرہ لیونگ روم (بیٹھک) کہلاتا ہے  جہاں بلاشبہ قدرتی روشنی کے استعمال کو ممکن بنایا جا سکتا ہے تاہم کمرشل عمارتوں میں قدرتی روشنی کا کوئی خاطر خواہ انتظام دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس لیے اگر آپ توانائی کی بچت کرنا چاہتے ہیں تو گھروں میں سب سے زیادہ لیونگ روم کا دھیان رکھیں جبکہ کمرشمل عمارتوں میں قدرتی روشنی کے استعمال کویقینی بنانے کے لیے تعمیراتی مرحلوں میں مناسب اقدامات اٹھانے کی  اشدضرورت ہے۔دن کے وقت پاکستان کے تقریباً تمام حصوں میں قدرتی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔ رہائشی اور کمرشل عمارتوں کو اس طرح ڈیزائن کریں کہ قدرتی روشنی وہاں لازمی پہنچے۔ ہوا کی آمدورفت کے لیے عمارتوں کی بیرونی دیوار پر گلاس سلائیڈنگ ڈور اور جالی سے بنا سلائیڈنگ ڈور لازمی نصب ہو۔

فریج کا دروازہ بار بار کھولنے سے گریز کریں

جتنی بار آپ فریج کھولتے ہیں اتنی ہی بار اس کی ٹھنڈک میں کمی آتی ہے اور ہر بار اس کمی کو پورا کرنے کے لیے فریج توانائی کا استعمال کرتی ہے لیکن جب فریج بھری ہوئی ہوتی ہے تو لمبے عرصے تک ٹھنڈی رہتی ہے لہٰذا جب آپ کی فریج بھری ہوئی ہو توا س میں پانی کی بوتلیں بھر کر رکھ دیں اس سے فرج ٹھنڈی رہے گی اور بجلی بھی کم استعمال ہو گی۔

پانی ذخیرہ کرنے کے لیے واٹر پمپ کے استعمال کا دورانیہ کم سے کم رکھیں

گھروں اور کمرشل منصوبوں میں چھت پر پانی کی ٹینکیاں رکھی ہوتی ہیں جسے واٹر پمپ کے ذریعے بھرا جاتا ہے۔ آپ پانی احتیاط سے استعمال کرینگے تو آپکا پانی کا پمپ بھی کم چلے گا۔ ایک اندازے کے مطابق نصف درجن پر مشتمل گھرانہ روزانہ 200 گیلن پانی صرف کرتا ہے جس میں سے نصف سے زائد پانی واش روم میں بہا دیا جاتا ہے۔ عام طور پر صبح سویرے اور شام کے اوقات میں پانی پریشر کے ساتھ آتا ہے جب ٹینکی چند منٹوں میں بھر جائیگی اور بجلی کا استعمال بھی کم ہو گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.