fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال

آج کے دور میں زندگی کے جس بھی حصے پر نظر دوڑائی جائے، ٹیکنالوجی قدم قدم پر انسان کی سہولت کیلئے ہمہ وقت تیار دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے لوگ ٹیکنالوجی کی بحث کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ اس نے انسان کو دیگر انسانوں کے ایک طرح سے قریب مگر بہت دور کردیا ہے، انسان کو اپنے موبائل فون سے نظر اُٹھانے کی فرصت نہیں، انسان ایک سکرین کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا ہوا روبوٹ بن گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی چیز مکمل سیاہ یا سفید نہیں ہوتی اور ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوا کرتے ہیں، مگر جہاں تک بات ہے سہولیات کی تو یہ بات بغیر کسی شک، بغیر کسی شبے کے کہی جاسکتی ہے کہ ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو قدرے آسان بنا دیا ہے۔ شاید اتنا آسان کہ وہ بہت سے کام جو ہمارے آباؤ اجداد کرنے کی سوچ بھی نہیں رکھ سکتے تھے، آج کے دور کا انسان اُسے فار گرانٹڈ لیتا ہے یعنی اُن چیزوں کا رونما ہونا اُسے کوئی بڑی بات نہیں لگتی۔ آج کی تحریر اسی حوالے سے ہے۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں متعارف کردہ چند ایک نئے ٹرینڈز میں سے ایک ڈرون ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے ریزیڈینشل ہومز، اپارٹمنٹس، ریزورٹس اور کمرشل پراپرٹیز کی شاندار ہوائی تصاویر یعنی ایریل شاٹس سے ریئل اسٹیٹ لسٹنگز کو گویا ایک نیا رُخ دے دیا گیا ہے، ایک نئی ڈگر پر روانہ کردیا ہے۔ آج کل کے جدید ڈرونز ساکت تصاویر، معیاری ویڈیوز، اوورہیڈ میپ پکچرز اور 360 ڈگری پینوراما شاٹس لینے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ مشہور امریکی ویب سائٹ ڈارٹ ڈرونز کے مطابق امریکی ریئل اسٹیٹ اسٹیٹ مارکیٹ کا یہ عالم ہے کہ ایجنٹس کو کلائنٹس کے سامنے 8 سے 10 شاندار ایریل شاٹس پیش کرنے ہوتے ہیں اور بس، پھر اُنہیں کلائنٹس کو اپنی پیش کردہ پراپرٹی خریدنے پر آمادہ کرنے میں ذرا سی بھی مشکل نہیں ہوتی۔

 

 

ڈرونز، جنہیں فلائنگ روبوٹ بھی کہا جاتا ہے، کو زمین سے ایک بندہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے مینیج کرتا ہے۔ تاہم جیسا کہ اس تحریر کے اوائل کے سطور میں عرض کیا گیا، ٹیکنالوجی نے یہاں بھی ناممکن کو ممکن بنایا اور اب سافٹ وئیر کے ذریعے کنٹرول شدہ فلائٹ پلانز کے تحت یہ ڈرون طیارے بغیر کسی شخصی تعاون کے بھی اُڑ سکتے ہیں۔ ڈرونز ایک ایڈوانس جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم سے کنیکٹ کیے گئے ہوتے ہیں جس سے یہ خود کار نیویگیشن بھی کرسکتے ہیں اور ان کا کسی چیز سے ٹکرانے کا گویا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

کمرشل ریئل اسٹیٹ ایجنٹس یا ریئل اسٹیٹ فرمز جو کہ ڈیویلپمنٹ، رنوویشن یا ایکویزشن کے لیے ایک بڑی اراضی کی مارکیٹنگ کررہے ہوتے ہیں، اُنہیں ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں خصوصی دلچسپی ہوتی ہے۔ ایسے میں اکثر ایک ڈرون شاٹ میں وہ ساری پراپرٹی کیپچر نہیں کرسکتے لہٰذا متعدد تصاویر جوڑ کر ایک ایسی شارٹ فلم بنا لیتے ہیں کہ ہزارہا ایکڑ پر محیط اراضی میں سے کسی ایک کونے اور کسی ایک کھدرے کی تفصیل بھی مس نہیں ہوتی۔

 

 

ایریل ویڈیو ٹورز، ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ، ریزورٹ لیونگ، لینڈ اینڈ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹس میں ڈرون ٹیکنالوجی کا کردار کلیدی ہے۔ آر آئی ایس میڈیا کے مطابق سال 2020 میں وہ امریکی لسٹنگ ایجنٹ جو کہ ڈرون ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے رہے اُن کا ڈیل کلوزنگ ریٹ 68 فیصد رہا، جبکہ سولڈ بائی ایئر کے گزشتہ 3 برس کی اسٹڈی کے مطابق امریکا میں 83 فیصد فروخت کنندگان اُن ایجنٹس کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں جو کہ ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔

فواد چودھری، جو کہ پاکستان کے حالیہ وزیرِ اطلاعات اور اس سے قبل وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی تھے، نے 13 مارچ 2021 کو ڈرون اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ مقصد سیکورٹی، تعمیرات اور زراعت کے لیے اس ٹیکنالوجی کی ریگولیشن کرنا تھی۔ اس اتھارٹی کے قیام کے وقت وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک تقریر کی تھی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تعمیرات، سیکورٹی اور زراعت کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال اب ناگزیر ہے۔ ایسے میں اب اس ٹیکنالوجی کے یوز کیلئے قوانین بنائے جارہے ہیں اور نئے ایونيوز کی تلاش جاری ہے جس سے پاکستان اور پاکستانی نوجوان استفادہ کرسکتے ہیں۔

 

 

اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے کافی سارے فوائد ہیں۔ اتنا کہ لکھتے لکھتے اس تحریر کے سطور ختم ہوجائیں مگر فوائد آدھے بھی نہ بیان ہوں۔ بس یوں سمجھیے کہ ڈرونز کے استعمال سے آپ پراپرٹی کی لوکیشن کی بہترین اسٹڈی کرسکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پراپرٹی کی مجموعی ویلیو صرف اور صرف اُس کی لوکیشن پر منحصر ہوتی ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے اسی لوکیشن کے فیکٹر کو ایک بہترین انداز سے ناظرین کے سامنے لایا جاسکتا ہے۔ آپ ایک ڈرون کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ہوائی سفر پر روانہ کردیجئے، یہ آپ کے سامنے اُس اراضی کی مکمل ہوائی تصویر ایک معیاری ریزولوشن میں سامنے لے آئیگا اور آپ کے ذہن پر سوالات کے جنم سے قبل جوابات کا نزول ہوجائےگا۔

کہتے ہیں کہ ڈیل میکنگ محض اسٹوری ٹیلنگ کا کھیل ہے۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے وابستہ لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ کسی بھی ڈیل کے وقت یعنی پراپرٹی کی خرید و فروخت کے وقت اُس پراپرٹی کے گرد بنی جانے والی کہانی، اُس کی خصوصیات کو بیان کرنے کے انداز اور خریدار کو خریدنے اور فروخت کنندہ کو بیچنے پر آمادگی کے لیے چُنے گئے الفاظ کا بہت ہی کلیدی کردار ہوتا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی اُسی اسٹوری ٹیلنگ میں معاونت فراہم کرنے کیلئے ایک مفید ٹول ہے۔

 

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.