fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

ریئل اسٹیٹ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں ہم آہنگی کا حقیقی مستقبل

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں پراپرٹی کی خرید و فروخت سے متعلق اگر آپ کو کاروباری لین دین کے حوالے سے جاری سرگرمیوں اور رحجانات کی تبدیلی کا اندازہ لگانا ہو، یہ دیکھنا ہو کہ کسی پراپرٹی کی فروخت یا خریداری میں آپ کو کتنا فائدہ ہوا، مستقبل میں تعمیراتی منصوبوں کے ڈیزائن سے متعلق رحجانات کیا ہوں گے تو انفرادی سطح پر اس بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا شاید ہی انسانی دماغ کے لیے ممکن ہو۔

کوئی بھی کاروباری ڈیل اتنی ہی اچھی اور سُودمند ثابت ہو سکتی ہے جتنا کہ ایک سرمایہ کار تصور کر سکتا ہے لیکن یاد رکھیے کہ تصورات کبھی بھی حقائق پر مبنی عوامل کی ضمانت نہیں ہو سکتے۔

دنیا اب پراپرٹی کی خرید و فروخت کے روایتی طریقوں سے نکل کر ایک قدم آگے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی جانب بڑھ چکی ہے۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت کے کاروبار کو مزید منافع بخش بنانے کے لیے اب ماضی، حال اور مستقبل میں پراپرٹی کے لین دین کی سرگرمیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کاروباری حکمتِ عملی ترتیب دی جاتی ہیں۔

علاوہ ازیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے اب عالمی سطح پر ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ادارے اپنے صارفین اور سرمایہ کاروں کی مالی حیثیت، آسان اقساط پر دستیاب پراپرٹیز میں سرمایہ کاروں کے رحجانات، صارفین کی آمدن اور روزمرہ کی بنیاد پر دنیا بھر سے کروڑوں کی تعداد میں دستیاب پراپرٹی کی دستاویزی تفصیلات کی صرف ایک کلِک پر فراہمی یقینی بنانے میں کوشاں ہیں۔

ہم اپنے قارئین کو اس تحریر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ریئل اسٹیٹ کی باہمی ہم آہنگی اور اس ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ریئل اسٹیٹ کا شعبہ اس ٹیکنالوجی سے کیسے استفادہ کر سکتا ہے؟

 

آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے مستقبل میں پراپرٹی کی خرید و فروخت کا رحجان جانچنا

مذکورہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر حساب و شمار یا عددی ہدایات پر مبنی ایک ایسا ذخیرہ ہے جو انسانی سوچ کے مطابق کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ سوچتے ہیں کہ پراپرٹی کے کاروباری لین دین پر مبنی گذشتہ چھ ماہ کی تجزیاتی رپورٹ تیار کی جائے جو آپ کو مارکیٹ میں ریئل اسٹیٹ یا پراپرٹیز کے رحجانات کی تفصیلات سے آگاہ کر سکے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے آپ باآسانی ان معلومات کا تفصیلی جائزہ لینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک بہت عمدہ مثال پنجاب کے بڑے شہروں کی کچہریوں میں دیکھنے کو ملتی ہے جہاں اب روایتی اسٹامپ پیپر کی جگہ کمپیوٹرائزڈ اسٹامپ پیپر نے لے لی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب ملک بھر میں کہیں سے بھی کمپیوٹرائزڈ اسٹامپ پیپر پر شائع مشین لرننگ بار کوڈ کی مدد سے آپ اس اسٹامپ پیپر پر درج معلومات تک بآسانی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

 

دستیاب معلومات کے تجزیہ سے پراپرٹی کے کرایوں اور قیمتِ فروخت کا تعین

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے اب یہ ممکن ہو سکے گا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے منسلک کاروباری ادارے کسی بھی پراپرٹی کے حدود اربع، پراپرٹی کی دستیابی کے مقام، اس مقام سے ملحقہ علاقوں میں دستیاب پراپرٹی کی قیمتِ فروخت اور اسی طرح کرایہ داری کے نظام میں پراپرٹی کی قیمتوں کی بنیاد پر مستقبل میں پراپرٹی کے کرایوں میں اضافے کا تعین وغیرہ کر سکیں گے۔ اس حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ مندرجہ بالا معلومات کے درست اندراج کے بعد ان کے عددی تجزیہ سے آپ تمام مطلوبہ معلومات تک باآسانی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

 

دستاویزی معلومات تک اب صرف ایک کلِک پر رسائی ممکن

عمومی طور پر ریئل اسٹیٹ سے متعلق معلومات عوامی ہوتی ہیں وہ چاہے زمین کا ریکارڈ ہو یا پراپرٹی دستاویزات کے عنوانات، قمیتِ خرید ہو یا پھر رہن اور قرض کی رقم کی ادائیگی کا معاملہ، ان تمام معلومات تک رسائی انسانی حقوق کا بنیادی جزو ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ان معلومات کے حصول کے لیے دفتروں کے چکر لگانا یا پھر انسانی وسائل کی مداخلت سے ان معلومات تک رسائی کا دور ختم ہونے کو ہے۔ اب آپ مستقبل قریب میں ان تمام معلومات تک رسائی صرف ایک کلِک کی مدد سے چند ہی سیکنڈز میں حاصل کر سکیں گے۔

 

آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے صارفین کی مالی حیثیت سے متعلق معلومات تک رسائی

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کسی بھی رہائشی منصوبے یا کثیر المنزلہ عمارات میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سرمایہ کار قسطوں میں ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے کاروباری اداروں کو ایک مفصل ریکارڈ مرتب کرنا پڑتا ہے تاہم کسی بھی معمولی غلطی سے کروڑوں روپے کی ادائیگیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے سسٹم کو سب سے پہلے اب صرف قرض لینے یا قسطوں پر سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔ فراہم کردہ تمام معلومات سسٹم اپنے اندر جذب کرتے ہوئے تمام دستیاب ریکارڈ کا بغور جائزہ لے گا اور ایک رپورٹ جنریٹ کرے گا جو کہ مطلوبہ سرمایہ کار سے متعلق اس کی ماضی کی کارکردگی اور مالی حیثیت کے حوالے سے تجزیاتی معلومات فراہم کر دے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.