fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

رہائشی سکیموں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے واٹر ٹینک ایک بہترین ذریعہ

تمام نئی رہائشی سکیموں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے واٹر ٹینک ایک بہترین ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ایسا ماننا ہے پاکستان میں کام کرنے والے آبی ماہرین کا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رہائشی سکیموں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے واٹر ٹینک کو لازمی قرار دینے سے زیر زمین پانی کے ذخائر کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

تمام نئے سیکٹرز اور نئی پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے بارش کے پانی کو  ذخیرہ کرنے کے لیے واٹر ٹینک کو لازمی بناتے ہوئے  کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) یا فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کو لازمی طور پر تعمیراتی منصوبوں میں شامل کرنا چاہیے ۔ یہ پانی باغبانی، کار واش اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی) کے کنٹری نمائندے ڈاکٹر محسن حفیظ  کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں بہت زیادہ بارش ہوتی ہے تاہم  مناسب ذخیرہ نا ہونے کی وجہ سے یہ پانی یا تو شہری علاقوں میں سیلاب کی وجہ بن جاتا ہے یا پھر یہ پانی نالہ لئی میں ضائع ہوجاتا ہے۔

ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اسلام آباد میں پانی کے چیلنجز اور مسائل کیا ہیں اور ایک سال کے اندر اندر ہم پائیدار حل کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ پانی کے کتنے وسائل دستیاب ہیں جن میں سطحی پانی کے ساتھ ساتھ زمینی پانی بھی شامل ہے۔ اور پھر یہ سوچنے کی ضرورت بھی ہے کہ کھپت کتنی ہے۔ اسلام آباد میں دیگر تمام شعبوں کی طرح شواہد پر مبنی معلومات ناپید ہیں۔

اسلام آباد میں اوسطا ہر سال مون سون کی 1500 ملی میٹر بارش ہوتی ہے جس  سے فائدہ اٹھانے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ 1990 کی دہائی میں لوگ زمین سے کم پانی نکالتے تھے  جبکہ زیادہ ریچارج ہو رہا تھا۔ اور اگر ہم ابھی دیکھیں تو بارشیں کم ریچارج کے ساتھ فلیش سیلاب میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بڑھتا ہوا انفراسٹرکچر، اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی آبادی اور پکی سڑکوں کی تعمیر ہے۔ اس کے لیے ہمیں مقامی سطح پر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم صرف 20 فیصد بارش کو ریچارج میں استعمال کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف زیر زمین پانی بہتر ہوگا بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور کلاوڈ برسٹ وغیرہ سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔

اگر اسلام آباد شہر کی بات کی جائے تو ہمیں اس وقت اسلام آباد میں پانی کے  زیر زمین ذخائر کو جانچنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں قانونی فریم ورک کا مسودہ تیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

آپ سب جانتے ہیں کہ اسلام آباد کا مکمل انحصار صرف دو آبی ذرائع پر ہے یعنی سطحی پانی اور زیر زمین پانی کے وسائل۔ دارالحکومت کا زیرزمین پانی ہر سال ایک میٹر کی شرح سے ختم ہوتا ہے جبکہ اسلام آباد میں ہر سال تقریبا  1.5 میٹر بارش ہوتی ہے۔ سردیوں کی بارشوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے ابتدائی طور پر کم از کم 50 کنویں قائم کیے جانے چاہئیے تاکہ مون سون کی بارشوں کے پانی کو محفوظ بنایا جا سکے اور اس اقدام سے ہم زمینی پانی کے ریچارج کو بھی بہتر بنا سکیں گے۔

وفاقی ترقیاتی ادارے نے  بھی سی ڈی اے اور ایف جی ای ایچ اے کے نئے سیکٹروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے ٹینک کے قیام کو لازمی قرار دینے کی تجویز کو سراہا  ہے۔

پانی ایک بہت تکنیکی مسئلہ ہے۔ 1991ء کے آبی معاہدے سے پہلے اسلام آباد کو سملی ڈیم ، خان پور ڈیم اور تقریبا 100 سے 200 ٹیوب ویلوں سے پانی مل رہا تھا۔ لیکن آج اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں آبادی بنیادی طور پر بورنگ پر مبنی پانی نکالنے پر منحصر ہے۔ 1998 کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تقریبا. 0.8 ملین تھی اور اب موجودہ مردم شماری میں جو تقریبا 19 سال بعد کی گئی اسلام آباد کی آبادی تقریبا 2.3 ملین ہے۔ 20 سال کے اندر اسلام آباد کی آبادی میں تین گنا اضافہ ہوا۔

دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں سے اسلام آباد کے طرف ہجرت کی کئی وجوہات ہیں جو قابل فہم ہیں۔ یہاں بہتر انفراسٹرکچر اور سہولیات ہیں اور ایک اچھا سکولنگ سسٹم، صحت کی سہولیات کی دستیابی، روزگار کے مواقع اور اچھی معیار زندگی۔ اگرچہ گذشتہ چند سالوں میں اس شہر کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ سہولیات میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہو سکا اور اس نے موجودہ بنیادی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.