fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

تعمیرات میں روبوٹس کا کردار

تعمیراتی صنعت میں افرادی قوت کا استعمال ناگزیر ہی ہے۔ وقت میں اور ٹیکنالوجی میں چاہے جتنی مرضی جدت آجائے، انسان کا عمل دخل تعمیرات میں ضرور رہے گا اور رہنا بھی چاہیے۔ انسان کا کردار مستقبل میں شاید اپنی افرادی قوت کے استعمال سے ہٹ جائے اور محض کسی فیصلہ ساز کا رہ جائے مگر تعمیرات میں اُس کا کردار رہے گا ضرور۔

آج کل کی بات کرلیتے ہیں۔ آج کل تعمیراتی سائٹس میں اکثر سکلڈ لیبر یعنی تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یعنی لوگ تو ہوتے ہیں مگر اُن کے اندر وہ صلاحیت اور وہ تکنیکی سکت نہیں ہوتی جو کہ درکار ہوتی ہے۔ اکثر مطلوبہ افرادی قوت مل بھی نہیں پاتی۔ یعنی دو مسائل ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ برابر نہیں ہو پاتے اور اکثر اُن کے اندر وہ صلاحیت نہیں ہوتی جو کہ درکار ہوتی ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے یعنی جب سے کورونا وبا کا سامنا کرنا پڑا ہے تب سے تعمیراتی سائٹس پر افرادی قوت کم کرنا ضروری ہوگیا ہے تاکہ کام آہستگی سے چلے مگر چلے ضرور۔ یعنی اب اس کا متبادل حل ڈھونڈنا ضروری ہوگیا ہے کیونکہ کورونا وبا کے بعد کی صورتحال کو ہی اب نیو نارمل کہا جاتا ہے یعنی یہی اب اٹل حقیقت ہے اور زندگی کو اسی کے ساتھ گزرنا اور گزارنا ہے۔

مسئلے میں مگر حل ضرور پنہاں ہوتا ہے اور آج کے دور میں ایک حل اس کا ضرور ہے اور وہ تعمیراتی روبوٹس کا ہے۔

تعمیراتی روبوٹس

روبوٹ کا سوچیں تو ذہن میں خودکار مشینیں آتی ہیں جن سے تعمیراتی عمل میں معاونت کی اُمید ہوتی ہے۔

اِس سوچ میں مزید وسعت لائیں تو ذہن ایسے تعمیراتی سائٹس کا منظر تراشنے لگتا ہے جہاں خودکار مشینیں تمام وہ کام کررہی ہوتی ہیں جن کاموں کی مدد سے آپ بڑی بڑی تعمیرات کو اُٹھتا دیکھ سکتے ہیں۔ یعنی اینٹیں اٹھانا، رکھنا، سیمنٹ بجری ڈالنا، رنیویشن، ڈیمالیشن غرضیکہ ہر وہ کام جن کا تعمیرات کے نصاب میں ذکر آتا ہے وہ روبوٹس کرتے خیال میں آتے ہیں۔

ایک خدشہ

ایک خدشہ تو یہ بھی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسان سے اُس کا روزگار چھین لے گی۔ یہ کسی حد تک درست بھی ہے اور غلط بھی۔ دُرست ایسے کہ ہاں واقعی جہاں آپ کو 15 مزدور دکھائی دیتے تھے، وہاں اب آپ کو دو روبوٹس ہی وہ تمام کام کرتے دکھائی دیں گے۔

اس کے برعکس یہ تاثر غلط کیسے ہے؟ وہ ایسے کہ چلیے مان لیا کہ آپ سے مین پاور چھین لی گئی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ روزگار کے حصول کے مزید مواقع چھن گئے۔ روبوٹس کی وجہ سے اب ایسی مزید جگہیں کھل گئی ہیں جہاں سے انسان کو روزگار کا حصول اب ممکن ہے۔

روبوٹس تبدیلی کیسے لا رہے ہیں؟

آپ یوٹیوب پر کبھی روبوٹس کو تعمیراتی سائٹس پر کام کرتا دیکھیں۔ آپ دیکھ سکیں گے کہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں انتہائی وزنی سامان اِدھر اُدھر لیے پھر رہی ہیں۔ اسی طرح آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انسان نما مشینری اپنے خودکار بازوؤں سے وزن اُٹھا رہی ہے، بلاکس ایک دوسرے کے اُوپر لگا رہی ہے، ویلڈنگ کررہی ہے یا پینٹ سپرے کررہی ہے۔ اسی طرح تھری ڈی پرنٹنگ روبوٹس بڑی بڑی تعمیرات آن ڈیمانڈ بناتی ہیں۔

اس کا کنٹرول موبائل روبوٹک آرم کے پاس ہوتا ہے جس کے اندر پری پروگرام ہدایات ہوتی ہیں اور اس سے ایک سیف بلڈنگ بنائی جا سکتی ہے۔ قبل ازیں اس ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جاتا تھا صرف پُلوں کی تعمیر کے لیے تاہم اب انڈسٹریل روبوٹس اور تھری ڈی پرنٹنگ کا ملاپ آٹومیشن ٹیکنالوجی کی سب سے بہترین ٹیکنالوجی ہے۔

ڈیمالیشن اینڈ کنسٹرکشن روبوٹس

اسی طرح سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اینٹیوں کی پوری شیٹس ڈالنے کے لیے یعنی چنائیاں، پلستر اور بنیادوں کی کھدائی کے لیے کنسٹرکشن روبوٹس کا استعمال ہوتا ہے۔ ان روبوٹس کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ اِن کی وجہ سے کام کی رفتار اور کوالٹی تیز اور بہترین ہوجاتی ہے۔

اسی طرح ڈیمالیشن روبوٹس کا بھی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ روبوٹس ہوتے ہیں جن کو کوئی بھی اسٹرکچر یا تعمیر گرانے کا کام سونپا جا سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ان کا استعمال ابھی اتنا عام نہیں ہوا ہے اور یہ عام ڈیمالیشن مشینری سے تھوڑے سلو ہوتے ہیں مگر یہ محفوظ اور لاگت میں کم ہوتے ہیں۔

ٹیکنالوجی سے پیداواری لاگت میں اضافہ

یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ہمارا مستقبل الگورتھم کے ہاتھوں میں ہے۔ اور یہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ ٹیکنالوجی ہی ہماری زندگی کو بہتری کی جانب گامن کر رہی ہے۔ آپ سڑکوں پر خودکار گاڑیاں اور اُن کی قطاریں دیکھ لیں، گھروں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتی ہوئی ڈیوائسز دیکھ لیں یا پھر سپر مارکیٹس میں خود کار روبوٹس دیکھ لیں، آپ ہر جگہ دیکھیں گے کہ ٹیکنالوجی انسانوں کے کام انسانوں سے بہتر کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

اسی طرح سے آپ دیکھیں کہ تعمیرات کی دنیا جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہورہی ہے اور دیکھیں کہ نئے تعمیراتی مٹیریل کا استعمال اور تھری ڈی کنسٹرکشن کے تجربات حیران کن ہیں۔ بیلفر بیٹی کے ایک تعمیراتی محقق کا کہنا ہے کہ آنے والے دور میں روبوٹکس اور ڈیجیٹلازیشن کا استعمال آگے بڑھے گا اور اس سے تعمیرات کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

اِس سے تعمیراتی دنیا میں کارکردگی کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کو درپیش تربیت یافتہ افراد کی قلت جیسے مسائل اور عمارت سازی کے دوران ہوجانے والی غلطیاں اور مال و متاع کے زیاں کو روکا جا سکتا ہے۔

انفراسٹرکچر کی بہتری

ہم ایک جدید جمہوری دور میں سانس لے رہے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جہاں انفراسٹرکچر سماجی کے ساتھ ساتھ سیاسی ضرورت بھی ہے۔ سڑکوں کے فرسودہ نظام کی اپگریڈیشن، بڑھتی ہوئی آبادیوں کے لیے رہائش گاہوں کا انتظام، سست اندام معیشتوں کی روانگی، اور اربن ڈیویلپمنٹ یعنی شہری آبادکاری جیسے پیچیدہ ترین اُمور کے لیے جدید منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

چونکہ ہر جگہ پر بہتر زندگی کے پنپنے کے لیے تمام شہروں کے پھیلاؤ کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں بڑے سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا، کلیدی کردار ادا کریگا اور ہر لحاظ سے نا گزیر ہوگا۔

جدید ٹیکنالوجی کا یوز مین پاور سے سستا، ہر طرح سے آسان، تیز اور زیادہ بہتر پڑتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس

مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو تعمیراتی سیکٹر کے مرکزی دھارے میں لانا اس سیکٹر کے لیے گیم چینجر كا کردار ادا کرے گا۔

یوں ہوگا یہ کہ اس سے تعمیراتی سٹیگننسی تعطل ختم ہوجائے گا، یعنی کام کی رفتار تیز ہو جائیگی، مستحکم اور جدت ساز عمارات کا وجود دیکھنے میں آئے گا، تمام تر چیلنجز کا مقابلہ ایک بہتر انداز میں کیا جا سکے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.