fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

تعمیراتی صنعت میں تھری ڈی پرنٹنگ کا کردار

گزشتہ ایک دہائی سے تھری ڈی پرنٹنگ کی اصطلاح مختلف حوالوں سے زیرِ بحث رہی ہے۔

یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ تھری ڈی پرنٹنگ نے متعدد صنعتوں میں ایک اہم پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ طبی سہولیات ہوں یا ایرو اسپیس، مختلف ٹولز کی پروڈکشن ہو یا تعمیراتی صنعت میں آنے والا انقلاب، تھری ڈی پرنٹنگ کے کردار سے انکار مشکل ہے۔

تھری ڈی پرنٹنگ کی تاریخ

تھری ڈی پرنٹنگ نے سن 1980 سے اپنا وجود پایا جب فیوزڈ ڈیپازیشن ماڈلنگ اور ڈائریکٹ میٹل ڈیپازیشن جیسی ایجادات منظرِ عام پر آئیں۔ تھری ڈی پرنٹنگ کا اصل مقصد پروٹوٹائپ پارٹس کی جلد اور دُرست تیاری تھا۔ بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ کے وجود میں آنے سے قبل تھری ڈی پرنٹنگ کا استعمال آرکیٹیکچرل فرمز اسکیل ماڈلز کی تیاری کے لیے بھی دیکھا گیا۔ سن 2004 میں امریکہ میں پہلی بار دیواروں کی تھری ڈی پرنٹنگ دیکھی گئی۔ سن 2014 میں ایمسٹرڈیم میں تھری ڈی پرنٹنگ کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک کنال گھر کی تیاری کی گئی۔

دو سال بعد یعنی سن 2016 میں چین سے یہ خبر آئی کہ ایک مکمل مینشن کی تیاری محض اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے کرلی گئی ہے۔ اُسی سال دبئی کے فیوچر فاؤنڈیشن نے اپنا آفس آف فیوچر ایک تھری ڈی پرنٹر کا استعمال کرتے ہوئے بنایا۔ یہ کمرشل کنسٹرکشن سیکٹر میں ایک اہم ترین سنگِ میل تھا، 2 ہزار 700 مربع فٹ کی یہ تعمیر محض 17 روز میں ممکن ہوئی۔

حال اور مستقبل

آج امریکہ میں تھری ڈی پرنٹنگ کی کنسٹرکشن مارکیٹ ویلیو ڈیڑھ ارب ڈالر ہے جبکہ کنکریٹ تھری ڈی پرنٹنگ مارکیٹ کا مجموعی حجم 56.4 ارب ڈالر ہے۔ کنکریٹ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے بارے میں ماہرین کی رائے یہ ہے کہ یہ ابھی بھی ڈیویلپمنٹ کے مرحلے میں ہے اور اس ضمن میں ابھی خاطر خواہ ترقی ہونا باقی ہے۔ یاد رہے کہ کنکریٹ کا استعمال کرنے والے تھری ڈی پرنٹرز کا مقصد مینوفیکچرنگ نہیں حالانکہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ پُلوں سے لے کر فاؤنڈیشن تک اور بلاکس سے لے کر دیواروں تک، سب کی تیاری تھری ڈی پرنٹرز کے ذریعے کی جاسکتی ہے اور وہ بھی ماحول دوست، افورڈیبل اور تیز رفتار طریقے سے۔

تھری ڈی پرنٹنگ کی شہرت میں اضافہ کیوں؟

تو اب سوال یہ ہے کہ تعمیراتی صنعت میں وقت کے ساتھ تھری ڈی پرنٹنگ کی شہرت میں اضافہ کیوں ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس کا جواب صرف اس جملے میں ہے دنیا میں آبادی بڑھ رہی ہے، زمین پر دستیاب جگہ سکڑتی جارہی ہے، عالمی طور پر اس بات کا احساس ہوچکا ہے تعمیراتی صنعت کے ذریعے ہی ملکوں کی معاشی سمت دُرست کی جاسکتی ہے، کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں تعمیرات کی رفتار میں اضافہ کسی اچھنبے کی بات نہیں۔ ایسے میں تھری ڈی پرنٹنگ کی اہمیت و افادیت کا بڑھنا بھی کسی حیرانی کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔

تیز رفتار تعمیراتی سفر

تھری ڈی پرنٹنگ نے ثابت کیا ہے کہ اس کی مدد سے کوئی بھی تعمیر چند دنوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ یعنی وہ تعمیراتی منصوبہ جس کی تکمیل میں عرصہ بیت جانے پر بھی کوئی حیرانی نہ ہو، اس ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ محض چند دنوں میں ہوسکتی ہے۔ ہاؤسنگ یونٹ کی تعمیر میں مہینے اور کمرشل عمارات کی تیاری میں سال بے جاتے ہیں تاہم ابتدائی سطور میں آپ کو ایک مثال دے کر واضح کیا کہ تھری ڈی پرنٹنگ سے ایک مکمل کمرشل یونٹ محض 17 روز میں تیار کرلیا گیا۔ عالمی جریدے فوربز کے مطابق کسی بھی پراجیکٹ سائٹ پر اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے 60 فیصد جبکہ لیبر یعنی مین پاور کا 80 فیصد بچایا جاسکتا ہے۔

کنسٹرکشن ویسٹ کی کمی

اسی طرح سے کنسٹرکشن ویسٹ کی کمی بھی تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے دیکھی جاسکتی ہے۔ عالمی طور پر سالانہ بنیادوں پر ایک ارب سے زائد کا تعمیراتی فضلہ ضایع ہوتا ہے اور سن 2025 تک یہ نمبر دوگنا ہوجائےگا۔ جہاں اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ تھری ڈی پرنٹنگ سے کنسٹرکشن ویسٹ کا مکمل خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاسکتا، اس امر کا ادراک بھی ضروری ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ سے کسی بھی پراجیکٹ کے صرف اسی مرحلے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے میں کنسٹرکشن ویسٹ کی کمی دیکھی جاسکتی ہے۔

من مرضی کی ڈیزائننگ کی آزادی

ماہرین کے مطابق تھری ڈی پرنٹنگ سے آپ ڈیزائن فریڈم حاصل کرسکتے ہیں۔ بہت سے ایسے ڈیزائن ہوتے ہیں کہ جن کا تصور تو کرلیا جاتا ہے، پلان بنا لیا جاتا ہے تاہم کنوینشنل طریقوں سے ایسے پراجیکٹس کی تعمیر و تکمیل کا مرحلہ کافی مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں تھری ڈی کنکریٹ پرنٹنگ سے آپ کوئی بھی ایسا اسٹرکچر قائم کرسکتے ہیں کہ جیسا آپ نے سوچ رکھا تھا۔

محفوظ کنسٹرکشن سائٹس

اسی طرح سے تھری ڈی کنسٹرکشن سے آپ اُن غلطیوں سے بھی بچ سکتے ہیں جن کا وقوع پذیر ہونا کسی بھی کنسٹرکشن سائٹ پر معمول ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کنسٹرکشن سائٹس پر روزآنہ 5 ہزار حادثات رونما ہوتے ہیں اور چونکہ تھری ڈی پرنٹنگ سے آپ انسانی دخل اندازی کو کسی حد تک محدود کردیں گے تو آپ یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ تھری ڈی پرنٹنگ سے کنسٹرکشن کا معاملہ نسبتاً محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.