fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

تعمیراتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال

موجودہ صدی کو روبوٹکس کے انقلاب کی صدی مانا جاتا ہے اور ہر جگہ مصنوعی ذہانت اپنا دائرہ کار بڑھاتی جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے انقلاب کی پوری عمارت مصنوعی ذہانت پر قائم ہے۔

انسان جب آرکیٹیکچرل ڈیزائن میں حیاتیات، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کو لاگو کرتا ہے تو یہ انسانی تجربے میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انسانی دماغ انتہائی پیچیدہ اور اعلیٰ نوعیت کے حساب کتاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور فوری طور پر ایک عمارت کے جیومیٹریکل ربط کا اندازہ لگالیتا ہے۔

مصنوعاتی ذہانت کا بڑھتا استعمال پراپرٹی اور کارپوریٹ دونوں سطح پر اخراجات میں کمی لانے کا باعث بنے گا۔ بہت سارے سپورٹ ڈیپارٹمنٹس اور افراد کا کام ختم ہوکر رہ جائے گا۔ تقریباً ہر چیز خودکار نظام پر منتقل ہوجائے گی، جیسا کہ ہم مالیاتی شعبہ میں پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں۔

انٹیلیجنٹ آرکیٹیکچر درحقیقت ہے کیا؟

کرسٹوفر الیگزینڈر اپنی شہرہ آفاق کتاب میں ایک ایسے تعمیراتی ڈیزائن کی بات کرتے ہیں جہاں عمارت اور فطرت انسانی ضروریات اور حسِ ادراک سے مطابقت میں ہے۔ یہ ناصرف دنیا کو دیکھنے بلکہ اس سے (اور خود سے بھی) جڑنے کا ایک نیا نظریہ اور انداز ہے۔ کرسٹوفر الیگزینڈر اسے انٹیلیجنٹ آرکیٹیکچر کا نام دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تعمیراتی ڈیزائن کا قدیم نظریہ بھی یہی تھا جسے دنیا نے ترقی کے نام پر فراموش کردیا ہے۔

انٹیلیجنٹ آرکیٹیکچر بنیادی طور پر ایک عمارت یا شہری ماحول کو جانچنے کا طریقہ ہے کہ آیا وہ ہماری جذباتی صحت (ایموشنل ہیلتھ) کے لیے اچھا ہے یا بُرا۔ جی ہاں! ایک عمارت کئی سطحوں پر اچھی یا بُری ہوسکتی ہے۔ لوگوں کو یہ جاننے کے لیے کسی ماہر سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک عمارت اچھی ہے یا بُری۔ وہ اس سوال کا جواب خود ہی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک عمارت اچھی ہے یا بُری یہ جاننے کے لیے کرسٹوفر الیگزینڈر نے اپنی کتاب میں ایک طریقہ بتایا ہے جسے وہ ’مِرر آف دی سیلف ٹیسٹ‘ کا نام دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں  کہ آپ خود سے صرف ایک سوال کریں: ’یہ عمارت مجھے زندگی کا زیادہ احساس دِلا رہی یا کم‘؟

یہاں سوال کی مخصوص نوعیت کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ نہیں پوچھا گیا کہ: ’کیا آپ اس عمارت کو پسند کرتے ہیں‘؟ یا ’کیا یہ عمارت آپ کو ہیجان کا احساس دِلا رہی ہے‘؟ کیونکہ یہ سوالات ابہام کی طرف لے جائیں گے۔ پسند اور ناپسند انفرادی ترجیحات کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کے تعین میں بیرونی عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔ بیرونی عناصر میں پروپیگنڈا ایک بڑا جزو ہے جو فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

عمارتوں کی تعمیر میں عصبی نظام کا کردار

اسی طرح جذباتی ہیجان بھی دو کیفیات سکون یا انتباہ کے باعث پیدا ہوسکتا ہے اور اکثراوقات اس ردِعمل کی اصل وجہ جاننا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی بجائے کرسٹوفر الیگزینڈر کا تجویز کردہ سوال ہمارے نیم شعور کے ان گہرے دریچوں کو ٹٹولتا ہے جسے انسانی ذہانت کہا جاتا ہے۔ کرسٹوفر الیگزینڈر کا انٹیلیجنٹ آرکیٹیکچر ہماری عصبی ساخت کو ہمارے تعمیراتی ماحول سے جوڑتا ہے۔

ایک اور سوال عمارت کے ربط یا باہمی وصل کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ سوال انتہائی پیچیدہ نظر آنے والی عمارتوں کے ربط کو جانچنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ کسی بھی عمارت کے کسی ایک تعمیری حصے جیسے دیوار، ستون، کھڑکی، کارنس وغیرہ کو دیکھیں اور خود سے ایک سوال پوچھیں:

‘اگر میں اس ٹکڑے کی جگہ تبدیل کردوں یا اس کی شکل بڑی حد تک بدل دوں یا پھر اسے اس جگہ سے ہٹا دوں، تو کیا اس سے عمارت کی مجموعی پائیداری متاثر ہوگی ‘؟

ایک اچھی عمارت میں اس کے حجم کے قطع نظر ہر سوال کا جواب ’ہاں‘ میں ہوگا۔ ایک اچھی عمارت میں اس کا ہر ایک حصہ وہیں ہوتا ہے جہاں اصولاً اسے ہونا چاہیے۔ ایک بے ربط عمارت میں اس کے مختلف حصے ایک دوسرے سے لاتعلق معلوم ہوتے ہیں اور ان کی حیثیت محض ایک نمائشی ٹکڑے کی سی ہوتی ہے جسے اس کی جگہ سے ہٹانے یا اس میں بڑی تبدیلی لانے سے عمارت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

تعمیراتی صنعت میں نئے رحجانات

انسان جب مادی دنیا سے رابطے میں آتا ہے تو اس کی کچھ بنیادی ضروریات ہوتی ہیں۔ ایک تعمیر شدہ ماحول جینیاتی اعداد و شمار، ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا عمل دخل اور قوتِ شعوری کے مطابق کام کرتا ہے۔ ہم ان تصورات کو آرکیٹیکچرل زبان میں بیان کرسکتے ہیں جنھیں آرکیٹیکٹس اپنے کام میں بہتری لانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

تعمیراتی علم جو تعمیراتی ماحول کی صورت میں سامنے آتا ہے ناصرف پیچیدہ ہے بلکہ ناقابلِ تخفیف بھی ہے۔ جس کے باعث اسے سادہ بنا کر تحریری شکل میں منتقل کرنا مشکل ہے۔ الیگزینڈر نے ’پیٹرن لینگویج‘ میں یہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلاشبہ آرکیٹیکچر کی دنیا ان کے اس نظریے سے خوفزدہ نظر آتی ہے تاہم ان کے اس نظریہ کو مختلف پیچیدہ آرکیٹیکچرل سوفٹ ویئرز تیار کرنے میں استعمال کیا جارہا ہے۔

جب ہم روایتی تعمیراتی ماحول کو انسانی یاداشت کی خارجی شکل یا توسیع کے طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں تب کہیں جاکر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ حیاتیات کس پیچیدگی سے آرکیٹیکچر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان دوست آرکیٹیکٹس ایک ڈیزائن تیار کرتے وقت اس سے متعلق اپنے جذبات و تاثرات اور اس کے ساتھ جُڑی ثقافت کے حوالے سے حساس رہتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.