fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

تجارتی مشاغل اور ماحولیاتی تغیرات میں باہمی ربط

دنیا کے نقشے پر موجود 195 سے زائد ممالک ماحولیاتی تبدیلی کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر جانتے ہیں اور بلاشبہ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ دنیا بھر میں صنعتی انقلاب کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کے رہنما اصولوں کو عمومی طور پر مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پوری دنیا کو ماحولیاتی تغیرات کے مہلک اثرات کا سامنا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے کی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کے 23 ممالک میں اوسطاً 68 فیصد سے زائد نوجوان ماحولیاتی تغیرات کو ایک سنگین اور بقاء انسانی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بسنے والے ایسے افراد کی تعداد میں گذشتہ پانچ برسوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو صنعتی فضلے کی وجہ سے فضائی اور آبی آلودگی کے تحت رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔

جنریشن زیڈ کا پالیسی سازی میں کردار

جنریشن ‘زیڈ’ نوعمر افراد پر مشتمل موجودہ نسل کا ایک ایسا گروہ ہے جو بھرپور توانائی کے ساتھ سماجی، معاشرتی اور ماحولیاتی مسائل پر زور شور سے اپنی آواز بلند کر رہا ہے اور یقین کیجیے کہ جنریشن ‘زیڈ’ کے ان افراد کی آواز کی گونج پوری دنیا میں سُنی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے دنیا بھر کے پالیسی ساز اب مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایسی مربوط حکمتِ عملی ترتیب دیں جس کی مدد سے اس سے بطریقِ احسن نمٹا جا سکے۔

بڑی بڑی صنعتوں بالخصوص فرنس آئل اور کوئلے پر چلنے والے کارخانوں کی وجہ سے فضائی آلودگی میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان صنعتوں سے نکلنے والے دھوویں میں کاربن کی مقدار ہے جو کہ فضاء میں شامل اکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسوں کے بننے میں کیمیائی مرکب کا کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ فضاء میں کاربن کے اخراج کی موجودگی میں کمی لانے کے لیے بین الاقوامی، حکومتی اور اعلیٰ شہرت کی حامل تجارتی و کاروباری کمپنیوں کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔

فضاء میں شامل مہلک کیمیائی عنصر سے نمٹنے میں جنگلات کا کردار

کاروباروں اداروں کے لیے لوگوں کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کام کرنے کا ایک فطری حل قدرتی وسائل کے تحفظ سے براہ راست منسلک ہے جیسے جنگلات کا تحفظ اور نئے درخت لگانا وغیرہ۔ امریکا میں ایک ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ سروے میں 90 فیصد نوجوانوں نےایک کھرب درخت لگانے کی مہم کی حمایت کی ہے۔ اس سروے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر پسند، ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر امریکی نوجوان، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف حکومتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

جنگلات کی بحالی ایک پُرکشش عمل ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فضاء میں کاربن کی خطرناک حد تک موجودگی سے انسانی زندگیوں پر پڑنے والے مضر صحت اثرات میں جنگلات کی بحالی کی مدد سے خاطر خواہ حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔  ایک بڑا تناور درخت تقریباً ایک سال میں 24 کلوگرام کاربن اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جنگلات زمین کے کٹاؤ کو روکنے، حیاتی نظام میں تنوع کا تحفظ کرنے اور مقامی آبادی کو روزگار کے ذرائع فراہم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

دورِ جدید میں صارفین ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال بھی بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔ ایک کاروباری ادارے ایسپریشن نے پلانٹ یور چینج نامی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کے استعمال سے کوئی بھی شخص اپنے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر بچ جانے والے چند سکّوں کو خود کار نظام کے تحت درخت لگانے کی مہم میں شامل کر سکتا ہے۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس پروگرام کے تحت اب تک 40 لاکھ  درخت لگائے جا چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ تک محدود ہیں جہاں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے سالانہ 115 ارب ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے اور ٹرانزیکشن سے بچ جانے والے چند سینٹ جمع کرکے درخت لگانے کے لیے سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی میں کاروباری اداروں کی ذمہ داری

ماحولیاتی تبدیلی اور صنعتی شعبے کے باہمی ربط پر کام کرنے والے ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ تجارتی اور کاروباری اداروں پر نوجوان نسل کو خود مختار بناتے ہوئے انہیں یہ بھروسہ دلانا ہو گا کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے میں تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

یاد رکھیے! کاروباری اداروں کے اخلاقی معیار، پیشہ وارانہ رویوں اور تیز رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرتی کامیابیوں سے نوجوان نسل ان اداروں سے خاصی متاثر ہے۔ اٹھائیس ممالک پر مشتمل ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 90 فیصد سے زائد نوجوان کا اس بات پر قوی یقین ہے کہ دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کاروباری اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.