fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

ایک کامیاب ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کیسے بنا جائے؟

آج کی تحریر کامیاب ریئل اسٹیٹ ایجنٹ بننے کے بارے میں ہے۔ لفظ ریئل اسٹیٹ ایجنٹ سنتے ہی ذہن ایک ایسے شخص کا تصّور کرنے لگتا ہے جس کے پاس وسیع معلومات ہوں، جو گُفتگو کا فن جانتا ہو، جسے لوگوں کو قائل کرنے میں ملکہ ہو اور جو مارکیٹنگ میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتا ہو۔

یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ تیزی سے بدل رہی ہے اور بدلتی مارکیٹ کے ساتھ خود کو اِس میں ڈھالنا ایک انتہائی ضروری عمل ہے۔ اس لیے کہ اس انتہائی مسابقت والی انڈسٹری میں آپ کا وجود برقرار رہ سکے، آپ کو غیر معمولی اقدامات کرنے ہیں اور یہی ایک اچھے ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کی نشانی ہے۔

یہ تحریر کامیاب ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کے تجربے کا نچوڑ ہے تاکہ اگر آپ اس شعبے میں نووارد ہیں تو آپ کی مدد کا سامان کرسکے یا پھر اگر آپ اس شعبے کے ماہر کھلاڑی ہیں تو آپ کو کہہ سکے کہ جو آپ کررہے ہیں وہ دُرست ہے اور یونہی جاری رہنا چاہیے۔

 

لوگوں کو اپنے ہونے کا احساس دلائیں

لوگ آپ سے چیز تب ہی لیں گے جب آپ کی شخصیت جاندار ہوگی اور مقامی کمیونٹی اور آن لائن لوگوں میں آپ کی جان پہچان اچھی ہوگی۔

 

 

اس ضمن میں تعلقات استوار کرنا نہایت ضروری ہے اور اُس کے لیے ایونٹس میں شرکت کرنا، نئے لوگوں سے جان پہچان بنانا اور خوش گفتار ہونا پڑتا ہے۔ اس میں مقامی ریئل اسٹیٹ کے لوگوں اور پُرانے کلائنٹس سے رابطے بھی آتے ہیں۔ آج کل کا وقت چونکہ ہمہ وقت انٹرنیٹ پر رہنے کا ہے لہٰذا ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کی انٹرنیٹ پر موجودگی اور انٹرنیٹ کو اپنے معلومات میں اضافے کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ نہیں رُکنا چاہیے۔

 

سیکھنے کا عمل نہیں رُکنا چاہیے

ایک کامیاب ریئلٹر کی یہ زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رکھے۔ اچھا ایجنٹ ایک خاص عمر اور ایک خاص تجربے کے بعد یہ نہیں سمجھتا کہ وہ عقلِ کُل ہے۔

 

 

ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کو چاہیے کہ وہ جُستجُو کریں اور مارکیٹ کے نئے ٹرینڈز سیکھنے میں وقت اور پیسہ دونوں صرف کریں۔ ایک یا دو سودے کامیاب ہونے کے بعد یہ سوچنے کی ضرورت ہرگز نہیں کہ آپ ایک کامیاب بزنس مین بن گئے اور اب سیکھنے کا عمل ختم ہونا چاہئے۔ ایسا نہیں ہے، کلائنٹس کی مکمل ضروریات پوری ہونے تک اُس کا ساتھ نہ چھوڑیں اور اپنے وقت سے ایک قدم آگے کی سوچ رکھنے کی عادت اپنائیے۔

 

اپنی کامیابیوں کا ریکارڈ رکھیں

ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کو ہمہ وقت نئے لوگوں سے ملنا ہوتا ہے۔ وہ نئے لوگ اُن کے پاس اپنے پلاٹ بیچنے، خریدنے یا سرمایہ کاری کرنے آتے ہیں۔

 

 

یہ سارا کھیل یقین کا ہوتا ہے یعنی اگر کوئی شخص اپنی عمر بھر کی کمائی آپ کے حوالے کرے گا تو یہ ضروری ہے کہ اس کو اپنے سچے ہونے کا یقین دلایا جائے یعنی اُسے بتایا جائے کہ وہ جس سرمایہ کاری کے لیے آپ کے پاس آرہا ہے اُس کا وہ سرمایہ آپ کے ہاتھوں میں مُکمل طور پر محفوظ ہے۔
گزشتہ کامیابیوں کا ریکارڈ رکھنا اس ضمن میں ضروری ہے۔ یہ ریکارڈ وقت اور تجربے سے آتا ہے اور لوگوں، خصوصاً نئے آنے والوں کے لیے تسکین کا باعث بنتا ہے۔

 

کسی ایک چیز میں مہارت حاصل کریں

عموماً دیکھا گیا ہے کہ بہت سے ایجنٹس ڈھیر سارے کام کررہے ہوتے ہیں۔ ایک ایجنٹ رہائشی اور کمرشل جائیداد کی خرید وفروخت بھی کررہا ہوتا ہے اور اُنھیں کرائے پر دینے کے لیے بھی لوگ ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔

 

 

یوں وہ انگریزی کے مقولے “جیک آف آل ٹریڈز بٹ ماسٹر آف نن” کے مصداق اپنا وقت گزارتا ہے یعنی اُسے ایک بھی کام میں ملکہ حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو کہ ایک ہی چیز کو پڑھنے، سمجھنے اور خود کو اُس کا ماہر بنانے میں وقت گزارتے ہیں وہ اپنے کلائنٹس کو اعلیٰ خدمات دینے کے اہل ہوتے ہیں۔ ہاں اگر آپ ایک فیلڈ میں خود کو مکمل طور پر ماہر بنا چُکے ہیں تو کسی دوسرے فیلڈ میں طبع آزمائی کرنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں۔

 

اپنے کلائنٹس کی قدر کریں

کسی بھی ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کا مقصد صرف پیسے کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ یہ یقیناً کام کا حصہ ہوتا ہے مگر بڑی سوچ انسان کو بڑے منازل طے کرواتی ہے۔

 

 

اپنے کلائنٹس کی قدر کیجئے اور اُن سے عمدہ تعلقات استوار کیجئے۔ مانا کہ کسی بھی ریئل اسٹیٹ کلائنٹ سے آپ کا تعلق محض چند دنوں یا مہینوں کا ہوتا ہے اور ڈیل ہوجائے تو پھر اُسے دوبارہ طویل عرصے تک نہیں دیکھا جاتا۔ مگر کسی ماہر ریئل اسٹیٹ ایجنٹ سے پوچھئے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ اعتماد کے رشتے کی عُمر برسوں کی ہوتی ہے۔ کسی قسم کی دراڑ تعلقات میں نہیں آنی چاہیے کیونکہ آپ کو نہیں معلوم ہوتا کہ کب کس کی کس موڑ پر ضرورت پڑ جائے۔

 

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.