fbpx
GCHF
Gatwala Commercial Hub , Faisalabad is Punjab’s biggest and Pakistan’s second largest mixed use, real estate project. It has a covered area of over 3.1 million sq. ft.

This mega project, designed and developed by Shah Nawaz Associates, is located, at the junction of Canal Expressway and Lahore Sheikhupura Road. The road in front of the GCH project, has an average traffic count of 30 vehicles per minute. become, the city’s next mega center for trade, commerce, industries as well as residential projects.

 

Blog

ابرِ رحمت اور محفوظ مَسکن! مگر کیسے

موسمیاتی تبدیلیوں کی باعث برسات کے موسم کے علاوہ دیگر موسمی ادوار میں بھی بارشوں کا سلسلہ بےترتیب شکل اختیار کر چکا ہے۔ بلاشبہ تمام موسم وہ چاہے موسمِ سرما ہو یا گرما، بہار کا موسم ہو یا خزاں کا، اپنی قدرتی خصوصیات کے ساتھ کسی بھی جاندار کی زندگی اور بقاء میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ ابرِ رحمت بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک شاندار نعمت ہے جو کہ نا صرف گرمی کے موسم کی سختیوں میں انسانوں اور کرہ ارض پر موجود دیگر مخلوقات کے لیے راحت بلکہ زراعت میں فصلوں کی قدرتی نشونما میں انتہائی اہم قدرتی وسائل سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں جہاں زلزلہ اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے باعث جانی و مالی نقصانات سے ممکنہ بچاؤ کے لیے باقاعدہ طور پر ایک مکمل شعبہ موجود ہوتا ہے وہیں رہائشی یونٹس کے تعمیراتی منصوبوں کے ڈیزائن میں بارشوں کے پانی سے گھروں کو محفوظ بنانے سے متعلق پیشگی مکمل حکمتِ عملی تیار کی جاتی ہے۔

رہائشی منصوبوں کے علاوہ انفرادی سطح پر گھروں کی تعمیر میں عمومی طور پر کچھ عرصے بعد یہ شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ یا تو گھروں کی چھتوں سے پانی ٹپکنا شروع ہو گیا ہے، ایئرکنڈیشنر کی فٹنگ سے دیواروں میں نمی اور سیم یا پھر گھروں کی تعمیر کے دوران ناقص حکمت عملی کے باعث بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو جانا وغیرہ۔

اچھا یاد رہے! گھروں میں پانی کے داخل ہونے کی دیگر وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کے دوران ٹاؤن پلانرز اور سول انجینئرز کی غیر سنجیدہ حکمت عملی بھی ہے جس کے باعث ایک عرصہ بعد سڑکیں اور گلیاں گھروں کی بنیادوں سے بلند ہو جاتی ہیں اور بارشوں کے دوران پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔

ابرِ رحمت اور محفوظ مَسکن! مگر کیسے

کچھ احتیاطی تدابیر جنھیں اپناتے ہوئے بارشوں کے پانی سے گھر کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

گھروں میں نکاسیِ آب کا مربوط نظام

بلاشبہ گھروں کی تعمیر کسی آرٹ سے کم نہیں ہے لیکن یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب آپ گھر کی تعمیر سے قبل اس کا نقشہ کسی تجربہ کار اور ماہر نقشہ نویس سے بنوائیں۔ اکثر اوقات مالکان چند روپے بچانے کے لیے ایک غیر تجربہ کار نقشہ نویس سے اپنا گھر تو ڈیزائن کروا لیتے ہیں لیکن بعد میں انہیں مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب ٹھیکیدار گھر کی تعمیر شروع کرے تو آپ کو چاہئیے کہ گھر کے مرکزی دروازے، کمروں اور بالخصوص چھت پر نکاسی آب کے نظام پر خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانی کے نکاس کے لیے گھر کے کسی بھی کونے میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہونی چاہئیے ۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ گھر کی چھت پر نکاسیِ آب کے لیے ایک سے زائد مقامات کا انتخاب کریں تاکہ اگر نکاسی آب کا کوئی ایک راستہ اگر بند ہو بھی جائے تو دیگر راستوں سے پانی کے گزرنے میں آسانی رہے۔

یہ تو ہو گئی بات نئے گھروں کی تعمیر کے دوران نکاسی آب کے مربوط نظام کی – آئیے اب کچھ بات ہو جائے پرانے تعمیر شدہ گھروں کی چھتوں کی مرمت اور بحالی سے متعلق چند تدابیر کی۔

برانی چھتوں کی مرمت اور بحالی کے کام کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ مرمت کے حتمی مرحلے یعنی سیمنٹ کے پلستر کے دوران کسی بھی قسم کے موجود چھوٹے یا بڑے شگاف کو ہر گز نظر انداز مت کریں۔ کیونکہ ایسی غلطی کی صورت میں بارش کا پانی چھت میں موجود ان شگافوں میں اکھٹا ہوتا رہے گا جو بعد ازاں دیواروں میں رِستا ہوا نمی اور پھر سیم کی شکل اختیار کر کے انہیں کھوکھلا کرنا شروع کر دیتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ دیگر صنعتوں کی طرح تعمیراتی صنعت بھی جدت اور سائنسی دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارش کے پانی سے چھتوں کو ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے واٹر پروف کوٹنگ مارکیٹ میں دستیاب ہے جو کہ بارش یا کھڑے پانی کو نیچے دیواروں میں منتقل ہونے سے روکتی ہے۔

اسی طرح اگر گھر کی تعمیر کے دوران چھت پر سلیب، سنگِ مرمر یا چپس کا استعمال کیا گیا ہے تو مرمت کے دوران اس بات کو یقینی بناءیں کہ سلیب، سنگِ مرمر یا چپس کے فرش پر جہاں کہیں آپ کو ڈراڑ یا شگاف محسوس ہوں تو انہیں سفید سیمنٹ کے استعمال سے فوری پُر کریں۔

گھروں میں ایئرکنڈیشنر کی تنصیب بھی کسی آرٹ سے کم نہیں

ایئرکنڈیشنر کا استعمال اب شہری زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہو چکا ہے اور اپریل میں موسمِ گرما کے آغاز کے ساتھ ہی گھروں میں ایئرکنڈیشنر کی تنصیب کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ عام طور پر اے سی کی تنصیب کے لیے غیر تجربہ کار الیکٹریشن کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تاکہ کچھ پیسے بچائے جا سکیں لیکن بعد ازاں چند روپوں کی یہ بچت گھر کی مرمت و بحالی کی صورت میں آپ کی جیب پر ہزاروں روپے کا بوجھ ڈالنے کا باعث بن جاتی ہے۔

نئے گھر کی تعمیر کے دوران پہلے سے ہی کمروں میں اے سی کی تنصیب کے لیے جگہ مختص کرتے ہوئے اس کی وائرنگ اور پائپ کے گزارنے کی لازمی گنجائش رکھیں۔ تاہم پرانے گھروں میں جہاں پہلے سے ای سی کی تنصیب کے لیے جگہ مختص نہ ہو وہاں وائرنگ اور پائپ گزارنے کے لیے جس جگہ کا انتخاب کریں وہاں شگاف کو بعد میں سیمنٹ کے پلستر سے اچھی طرح پُر کریں اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے جب آپ ایئرکنڈیشنر کی فٹنگ  سے متعلق کسی ماہر اور تجربہ کار الیکٹریشن کا انتخاب کریں۔

کھارے پانی سے بنے بلاکس نمی کی ایک بڑی وجہ

ملک بھر میں میٹھے پانی کی اس قدر کمی موجود ہے کہ دیگر کاموں میں استعمال کی بات تو چھوڑیں یہاں پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی میٹھا پانی بامشکل دستیاب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے زیادہ تر بلاکس کی تعمیر میں کھارے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کھارے پانی سے بنے بلاکس سے تعمیر شدہ گھروں میں نمی کے آثار بہت جلدی دیواروں پر نمودار ہو جاتے ہیں اور اس کے لیے واٹر پروف کوٹنگ نمی سے بچاؤ کا بہترین حل تصور کیا جاتا ہے۔

بجلی کی ترسیل کا مربوط نظام بارشوں میں زندگی کی ضمانت

گھروں کی تعمیر کے دوران بجلی کی ترسیل کے لیے بچھائی گئی تاروں کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے تاکہ گھر کے مکینوں کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعمیر کے دوران انڈرگراونڈ وائرنگ کے لیے اعلیٰ کوالٹی کے پائپ استعمال کیے جائیں اور تاروں کی انسولیشن یقینی بنائی جائے۔  کھلی ہوئی اور انسولیشن کے بغیر تاریں بچھانے سے بارشوں کے موسم میں شارٹ سرکٹ کی امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

Sorry, the comment form is closed at this time.